LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

کیریبین جزیرے میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے ایک بار پھر فعال

Web Desk

9 August 2026

کیریبین جزیرے مارٹنیک میں واقع تاریخی اور خطرناک آتش فشاں ‘ماؤنٹ پیلے’ میں زلزلوں اور سرگرمیوں کے اضافے کے بعد ماہرین نے اس کی سخت نگرانی شروع کر دی ہے۔ شائع شدہ رپورٹس کے مطابق 24 سے 31 جولائی کے دوران آتش فشاں کے ارد گرد 124 زلزلے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ اس سے پچھلے ہفتے یہ تعداد صرف 45 تھی۔ جولائی کے پورے مہینے میں مجموعی طور پر 331 آتش فشانی زلزلے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جس کے بعد علاقائی حکام الرٹ ہو گئے ہیں۔

ماؤنٹ پیلے کا شمار دنیا کے خوفناک ترین آتش فشاں پہاڑوں میں ہوتا ہے۔ اس نے 1902ء میں تاریخ کے بدترین آتش فشانی حادثات میں سے ایک کو جنم دیا تھا، جب اس کے پھٹنے سے نکلنے والی شدید گرم گیسوں اور راکھ کے بادل نے پورٹ سٹی ‘سینٹ پیئر’ کو لمحوں میں تباہ کر دیا تھا اور تقریباً 30 ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ارضیاتی ماہرین کی وضاحت کے مطابق، یہ زلزلے زیرِ زمین میگما کی نقل وحرکت سے چٹانوں پر بننے والے دباؤ کے باعث اُمڈ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلوں کی تعداد میں اضافہ لازمی طور پر آتش فشاں پھٹنے کا حتمی اشارہ نہیں ہوتا، تاہم اگر کوئی بڑا دھماکا ہوا تو زہریلی گیسیں اور راکھ کے بادل شمالی مارٹنیک اور کیریبین کی فضائی حدود کی پروازوں کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔