LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ،تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق فیلڈ مارشل سے جمہوریہ کانگو کے دفاعی وفد کی ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان سمیت 12 ممالک کی شمال مغربی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت اپوزیشن کا 27 ستمبر کا احتجاج اور لانگ مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں: سہیل آفریدی بلوچستان کے مسائل ڈائیلاگ سے حل ہونے چاہئیں، وسائل پر پہلا حق عوام کا ہے: وزیراعظم بلوچستان میں 10 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 37 دہشتگرد ہلاک اپوزیشن جماعتوں کے نئے الائنس کا معاملہ، اہم مشاورتی اجلاس آج ہوگا پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے اجلاس، اپوزیشن کا احتجاج ملائیشین وزیر داخلہ کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ڈیجیٹل نظام کو سراہا امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے، سیاست کا معیار گٹر میں ڈال دیا گیا ہے، خواجہ آصف عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف دوبارہ نظرثانی درخواست دائر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن میٹریل کی خریداری کے اقدامات شروع وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا

اٹلی کی وزیراعظم نے ایران کیخلاف جنگ میں تعاون کے دعوے کی تردید کردی

Web Desk

25 June 2026

اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے ایران کے خلاف کسی بھی جنگی یا فوجی کارروائی میں امریکہ کا ساتھ دینے کے دعووں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ہمراہ ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے نیٹو (NATO) کے نئے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے اس حالیہ دعوے کو یکسر مسترد کر دیا جس میں انہوں نے اطالوی فوجی اڈوں کے استعمال کا اشارہ دیا تھا۔ جارجیا میلونی نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری شدید کشیدگی پر ملک کا پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی نے کبھی بھی ایران امریکہ تنازع یا کسی براہِ راست فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔اطالوی وزیراعظم نے پریس کانفرنس میں دفاعی معاہدوں کی حدود کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج کو اطالوی تنصیبات سے جو بھی سہولت حاصل تھی، وہ محض تکنیکی اور لاجسٹک معاونت تک محدود تھی اور اسے کسی بھی طور پر ایران کے خلاف جنگی مشن کی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔واضح رہے کہ یہ سفارتی اور سیاسی تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب گزشتہ روز نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ میں جاری “آپریشن ایپک فیوری” (Operation Epic Fury) کے دوران اٹلی میں قائم فوجی اڈوں سے لگ بھگ 500 امریکی جنگی طیاروں نے اڑان بھری تھی۔ اس بیان کے بعد اٹلی کی حکومت کو ملکی سیاست اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، جس پر اب خود وزیراعظم نے پریس کانفرنس کر کے پوزیشن واضح کی ہے۔