LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم

اٹلی کی وزیراعظم نے ایران کیخلاف جنگ میں تعاون کے دعوے کی تردید کردی

Web Desk

25 June 2026

اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے ایران کے خلاف کسی بھی جنگی یا فوجی کارروائی میں امریکہ کا ساتھ دینے کے دعووں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ہمراہ ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے نیٹو (NATO) کے نئے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے اس حالیہ دعوے کو یکسر مسترد کر دیا جس میں انہوں نے اطالوی فوجی اڈوں کے استعمال کا اشارہ دیا تھا۔ جارجیا میلونی نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری شدید کشیدگی پر ملک کا پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی نے کبھی بھی ایران امریکہ تنازع یا کسی براہِ راست فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔اطالوی وزیراعظم نے پریس کانفرنس میں دفاعی معاہدوں کی حدود کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج کو اطالوی تنصیبات سے جو بھی سہولت حاصل تھی، وہ محض تکنیکی اور لاجسٹک معاونت تک محدود تھی اور اسے کسی بھی طور پر ایران کے خلاف جنگی مشن کی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔واضح رہے کہ یہ سفارتی اور سیاسی تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب گزشتہ روز نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ میں جاری “آپریشن ایپک فیوری” (Operation Epic Fury) کے دوران اٹلی میں قائم فوجی اڈوں سے لگ بھگ 500 امریکی جنگی طیاروں نے اڑان بھری تھی۔ اس بیان کے بعد اٹلی کی حکومت کو ملکی سیاست اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، جس پر اب خود وزیراعظم نے پریس کانفرنس کر کے پوزیشن واضح کی ہے۔