LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو ’بیمار ذہنیت‘ کا حامل قرار دے دیا مزدوروں کے قاتل رعایت کے مستحق نہیں، سخت کارروائی ہوگی: وزیراعلیٰ بلوچستان بلوچستان میں مسلح افراد کی فائرنگ، پنجاب سے تعلق رکھنے والے 5 مزدور جاں بحق سابق امیر کا انتقال، وزیر اعظم شہباز شریف آج قطر جائیں گے پاکستان اور سعودیہ کا خواتین کے حقوق، خاندانی نظام اور مشترکہ تعاون کے فروغ کا اعادہ پنجاب سے 1 لاکھ 38 ہزار 342 غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو واپس بھجوا دیا: محکمہ داخلہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: قطر نے سمندری سرگرمیاں معطل کردیں اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری پر زور شیخ حمد بن خلیفہ نے قطر کی خوشحالی میں تاریخی کردار ادا کیا: صدر، وزیراعظم جسمانی اور ذہنی صحت کے ہر ٹیسٹ میں مکمل نمبر حاصل کیے: ٹرمپ او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی میزبانی پاکستان کیلئے اعزاز ہے: اعظم نذیر 142 ہائی رسک یونین کونسلز میں انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہوگی ایران کو اپنے غلط فیصلوں کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے: امریکی وزیرِ دفاع افغان طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں،عالمی سطح پر آوازیں اٹھنے لگیں ایرانی اخبار کی ’انتقامی ہٹ لسٹ‘ پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل؛ امریکہ کے ایران پر 140 حملے، آبنائے ہرمز بند

سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے: وفاقی آئینی عدالت

Web Desk

16 June 2026

 سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف بڑا بنچ بنانا ضروری نہیں، دو رکنی بنچ ہی سماعت کے لیے کافی ہےچیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت نے پی ٹی سی ایل پنشنرز کیس کی سماعت کے دوران واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے لیے عدالت کا دو رکنی بنچ قانونی طور پر مکمل مجاز ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم ترین قانونی اور آئینی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی بھی فیصلے کے خلاف نظرثانی یا اپیل کی سماعت کے لیے عدالت کا کوئی بہت بڑا بنچ تشکیل دینا شرعاً اور قانوناً ضروری نہیں ہے، بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا ۲ رکنی بنچ ہی سماعت کے لیے کافی اور قانونی طور پر بااختیار ہے۔

یہ اہم رولنگ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے پی ٹی سی ایل ($PTCL$) پنشنرز کیس کی باقاعدہ سماعت کے دوران دی ہے۔ کیس کی ہائی پروفائل سماعت کے دوران پی ٹی سی ایل کے متاثرہ ملازمین اور پنشنرز کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی ایڈوکیٹ بطور کونسل عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

دورانِ بحث ملازمین کے متبادل وکیل شوکت عزیز صدیقی نے بنچ کی ساخت پر قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ جس فیصلے کے خلاف یہ اپیل سنی جا رہی ہے، وہ ماضی میں سپریم کورٹ کے ایک بااختیار تین رکنی بنچ نے صادر کیا تھا، جبکہ اس وقت وفاقی آئینی عدالت کا یہ محض دو رکنی بنچ اس اہم ترین کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ وکیل صفائی نے نقطہ نظر اپنایا کہ بنچ کی تعداد کم از کم سپریم کورٹ کے بنچ کے برابر یا اس سے بڑی ہونی چاہیے۔

اس قانونی اعتراض پر چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اس مخصوص آئینی و قانونی مینو فیسٹو اور دائرہ اختیار کے حوالے سے عدالت کے متعدد واضح فیصلے پہلے سے ہی موجود ہیں، اس لیے آپ بنچ کی تعداد کے حوالے سے بالکل بے فکر رہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی یا سماعت کے لیے ہمارا یہ ۲ رکنی بنچ ہی قانون کے مطابق بالکل کافی ہے۔

بعد ازاں، وفاقی آئینی عدالت نے پی ٹی سی ایل ملازمین اور پنشنرز کی جانب سے دائر کردہ تمام مختلف نوعیت کے کیسز اور درخواستوں کو آپس میں یکجا (کنسولیڈیٹ) کرنے کا حکم جاری کیا۔ عدالت عالیہ نے تمام فریقین کے وکلاء کو آئندہ کی تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کو غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیا۔