LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم آزادکشمیرکی فوڈ اتھارٹی کو کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات کا حکم درجہ حرارت میں اضافے کا امکان، متعلقہ ادارے الرٹ رہیں: این ڈی ایم اے گورنر پنجاب نے سیلاب متاثرین میں 26 گھروں کی چابیاں تقسیم کردیں پاکستان کی سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت ایرانی صدر کا جارح قوتوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان شہباز شریف سے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 میں ترمیم منظور، ججز کے تبادلوں کی راہ ہموار قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کر دیا حوثیوں کے حملے قابلِ مذمت، پاکستان سعودیہ کی حمایت جاری رکھے گا: وزیراعظم سندھ اسمبلی: جماعت اسلامی کی لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد منظور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ؛ پاکستانی ٹیک سیکٹر کی عالمی منڈیوں تک رسائی ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ

فرش پر 362 کلو پی نَٹ بٹر پھیلا کر فنکار کو انوکھا خراجِ عقیدت

Web Desk

21 July 2026

نیدرلینڈز میں معروف اور روایات سے ہٹ کر کام کرنے والے تصوراتی فنکار (Conceptual Artist) وِم ٹی-شپرز کو منفرد انداز میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک میوزیم کے فرش پر 362 کلوگرام سے زائد پی نٹ بٹر (مونگ پھلی کا مکھن) پھیلا دیا گیا ہے۔ روٹرڈیم میں واقع ’ڈیپوٹ، میوزیم بوئجمانس فان بیوننگن‘ میں اس عجیب و غریب فن پارے کو دو ماہ کی نمائش کے لیے عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والا پی نٹ بٹر تقریباً 15 ہزار سینڈوچز بنانے کے لیے کافی ہے۔

وِم ٹی-شپرز، جن کا گزشتہ ماہ 83 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا، نے پہلی بار یہ تخلیق جسے ’پنڈاکاس فلور‘ (Pindakaasvloer) کہا جاتا ہے، 1969 میں پیش کی تھی۔ وہ ڈچ زبان میں بچوں کے مشہور شو ’سیسمی اسٹریٹ‘ کے کرداروں ارنی اور کرمٹ دی فراگ کے صداکار بھی رہے۔ ان کے فن پارے روایتی آرٹ کو چیلنج کرنے اور ناظرین کو سوچنے پر مجبور کرنے کے لیے مشہور تھے، جن میں شیشے کے ٹکڑوں اور نمک سے ڈھکے فرش بھی شامل تھے