LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش وعدہ کرتا ہوں شہید امام کے مشن کو جاری رکھوں گا: مسعود پزشکیان ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت 5 ماہ بعد بحال مؤثر سفارتکاری اور امن سے پاکستان کا عالمی تشخص مضبوط ہوا: فیصل کریم کنڈی اسرائیل کو خطے کو دوبارہ جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: صدر اردوان

ایرانیوں کا آیت اللہ علی خامنہ ای کیلئے جذباتی اظہار دیکھ کر حیران ہوں، ٹرمپ

Web Desk

4 July 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین کے اجتماع پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنازے میں لوگوں کو اس طرح روتے دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

امریکی معروف نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ (Axios) کے صحافی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایرانی رہبر کی آخری رسومات میں عوام کی ریکارڈ ساز شرکت پر اپنا ردِعمل دیا۔ انہوں نے کہا، “میں ایرانی عوام کو علی خامنہ ای کے لیے اس طرح روتا دیکھ کر شدید حیران ہوں، کیونکہ میں تو ہمیشہ یہی سمجھتا تھا کہ ایرانی عوام ان سے اور موجودہ ایرانی نظام سے شدید نفرت کرتے ہیں۔”

امریکی صدر نے اپنے انٹرویو میں ایک بار پھر اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ اگر وہ (امریکہ) چاہتے تو خامنہ ای کے جنازے کے اس بہت بڑے اجتماع میں موجود تمام افراد اور ایرانی قیادت کو ایک ساتھ نشانہ بنا سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا کوئی انتہائی قدم جان بوجھ کر نہیں اٹھایا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہوں نے فوجی کارروائی کا فیصلہ اس لیے روکا کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو مستقبل میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے دوسرا کوئی فریق باقی ہی نہ رہتا۔