LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات قطر میں سوگ کی فضا، سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی انتقال کر گئے امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلیجی ممالک پر جوابی میزائل حملے، آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بند ڈیرہ غازی خان: قبائلی علاقے میں 11 سالہ لڑکی مبینہ طور پر فروخت کر دی گئی امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں

ایران کا جوہری پروگرام فی الحال موجودہ حالت میں برقرار رہے گا، ٹرمپ

Web Desk

18 June 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کے تسلسل میں ایک اور بڑا اور نرم تزویراتی موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام فی الحال اس کی موجودہ حالت (Status Quo) میں ہی برقرار رہے گا۔ امریکی میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ اب ایران پر مزید کوئی نئی اقتصادی یا سیاسی پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔ انہوں نے خطے میں عسکری توازن اور دفاعی پوزیشن پر بات کرتے ہوئے ایک انتہائی غیر معمولی اور حیران کن بیان دیا کہ اگر دنیا کے دیگر ممالک کے پاس اپنے دفاع کے لیے میزائل موجود ہیں، تو یہ سراسر ناانصافی ہوگی کہ ایران کے پاس بالکل بھی میزائل نہ ہوں، جو کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر امریکی پالیسی میں ایک بڑی نرمی کا اشارہ ہے۔

میڈیا گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے خلیج کی سیکیورٹی اور حتمی معاہدے کے ٹائم فریم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و امان اور تجارتی گزرگاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے امریکی فوج کچھ عرصے تک خلیج (Persian Gulf) میں بدستور موجود رہے گی۔ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کو ایک جامع اور مستقل معاہدے میں تبدیل کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حتمی معاہدے کی تیاری کے لیے طے کی گئی 60 دن کی مدت کوئی مشکل یا سخت ڈیڈ لائن نہیں ہے، اور فریقین کے پاس تفصیلی امور پر بات چیت کے لیے کافی وقت موجود ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس نئے اور لچکدار بیان کو عالمی سفارت کاری میں ایران کے ساتھ طویل مدتی پُرامن تعلقات استوار کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہی ہے۔