لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ
Web Desk
19 June 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور کثیر الجہتی تزویراتی بیان جاری کیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر جاری کردہ پیغام اور پیرس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور وہ لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مکمل جنگ بندی (Ceasefire) کی توقع رکھتے ہیں۔امریکی صدر کے اس تفصیلی بیان، ایرانی میزائل پروگرام پر ان کے بدلتے ہوئے تزویراتی موقف اور مالیاتی افواہوں کی تردید کی تفصیلات درج ذیل ہیں:مشرقِ وسطیٰ کے فریقین کو پیغام اور معاشی اثراتعزم پر قائم رہنے کی ہدایت: صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے تمام اسٹیک ہولڈرز اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جاری مذاکراتی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے اپنے امن کے عزم پر مضبوطی سے قائم رہیں۔عالمی مارکیٹوں کا مثبت ردعمل: انہوں نے امن عمل کے معاشی ثمرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹیں اس وقت تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاکس میں ریکارڈ اضافے کو بے حد پسند کر رہی ہیں۔ تیل کی قیمتوں کا نیچے آنا اور تجارتی فتح حاصل ہونا امریکہ کی معاشی تزویرات کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ایران کو 300 ارب ڈالر ادائیگی کی تردیدصدر ٹرمپ نے ان کے خلاف میڈیا پر چلنے والی مالیاتی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا:”امریکہ کی طرف سے ایران کو 300 ارب ڈالر کی بھاری ادائیگی کی خبریں سراسر بے بنیاد اور ‘فیک نیوز’ (Fake News) ہیں۔ یہ دراصل ڈیموکریٹس کا ایک سیاسی پروپیگنڈا ہے جو امن عمل کو نقصان پہنچانے کے لیے چلایا جا رہا ہے۔”ایرانی میزائل پروگرام پر ٹرمپ کا اچھوتا اور نرم تزویراتی موقفپیرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے ایک ایسا مؤقف اپنایا جس نے عالمی دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا ہے:تزویراتی تناسب کا اعتراف: ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر خطے کے دوسرے ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں، تو صرف ایران کے پاس ان کا نہ ہونا کسی حد تک غیر منصفانہ (Unfair) بات ہے۔علاقائی موازنہ: انہوں نے واضح کیا کہ اگر سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک کے پاس اپنے دفاع کے لیے میزائل موجود ہیں، تو ایک متناسب حد (Proportional Limit) کے اندر رہتے ہوئے ایران کے پاس بھی ان میزائلوں کا ہونا بالکل قابلِ قبول ہے۔خلیج میں امریکی فوج کی موجودگی کا پلانسفارتی کامیابیوں اور ایران کے ساتھ تقریباً چار ماہ طویل شدید تنازع کے خاتمے کے باوجود، صدر ٹرمپ نے خطے میں امریکی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے:امریکی فوجی حکمتِ عملیبنیادی تزویراتی مقصدفوجی موجودگی برقرار رکھناتنازع ختم ہونے کے بعد بھی خلیج (Gulf Region) میں امریکی فوج کو کچھ عرصے تک بدستور تعینات رکھا جائے گا۔تزویراتی توازن اور نگرانیاس عسکری موجودگی کا مقصد خطے میں طاقت کے توازن کو قائم رکھنا اور معاہدوں کے نفاذ کی نگرانی کرنا ہے۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل
12 July 2026
آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت
12 July 2026
وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع
12 July 2026
بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ
12 July 2026
جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ
12 July 2026
قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت
12 July 2026
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات
12 July 2026
ٹیلر سوئفٹ کی شاہانہ شادی، ممدانی نے سیکیورٹی اخراجات کی تفصیل بتا دی
12 July 2026