LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے: وفاقی آئینی عدالت وزیراعظم کی گلگت میں شمسی توانائی منصوبہ جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو

عمران خان کی بہنوں پر تشدد قابلِ شرم اور ریاستی کمزوری کی علامت ہے،سہیل آفریدی

Web Desk

18 November 2025

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پنجاب پولیس کی جانب سے عمران خان کی بہنوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور طاقت کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفت میں خواتین پر ہاتھ اٹھانا انتہائی قابلِ افسوس، بزدلی اور ریاستی اداروں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

سہیل آفریدی کا ایکس پر بیان میں کہنا تھا کہ جب حکومتی مشینری سیاسی مخالفین کا سامنا کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو وہ گھریلو خواتین پر حملہ آور ہو جاتی ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل عمران خان کی اہلیہ کے خلاف بھی “گھٹیا الزامات” لگا کر منظم کردار کشی کی گئی، جو اسی سلسلے کا حصہ ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے یہ بھی بتایا کہ آج صوبائی وزیر مینا خان پر مبینہ تشدد اور قومی اسمبلی کے رکن شاہد خٹک سمیت دیگر منتخب نمائندوں کو گرفتار کرنے کی کوششیں نہ صرف قابلِ اعتراض ہیں بلکہ پارلیمانی تقدس کی خلاف ورزی بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین، قانون اور جمہوری اقدار کا عملاً جنازہ نکال دیا گیا ہے اور حالات کو دانستہ طور پر ایسی سمت دھکیلا جا رہا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہے گی۔
سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ “یہ سب کچھ تاریخ میں درج ہو رہا ہے، اور بعد میں نہ کوئی عورت کارڈ چلے گا، نہ جمہوریت اور نہ اخلاقیات کا ڈھونگ۔”