LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملتان: مزدور نوجوان کو گاڑی سے کچلنے کا کیس، ملزم توقیر عباس کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، پیشی پر وکلاء کا تشدد اسحاق ڈار کی تاجک صدر سے ملاقات، علاقائی اقتصادی تعاون کے فروغ پر زور عالمی و مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کمی، چاندی کا بھاؤ مستحکم تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں اہم پیشرفت، امریکی منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر اتفاق مالدیپ کی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد، صدر بھی آج پاکستان پہنچیں گے 13 سال کا گند تین دن میں صاف نہیں ہو سکتا، وقت لگے گا: فیصل کریم کنڈی امریکی پابندیوں کے باوجود عالمی فوجداری عدالت انسانی حقوق ایوارڈ کے لیے نامزد ہڈیوں کی کمزوری کی تشخیص اور علاج بارے شعور اجاگر کرنا ضروری ہے: مریم نواز پشاور ہائیکورٹ: گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ای پاسپورٹس کے لازمی اجراء کی تاریخ میں توسیع امریکی وزیرِ جنگ نے اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا اور نیتن یاہو سے ملاقات کی: ایگزیوس وزیراعظم شہباز شریف کا آج ہونے والا پشاور کا دورہ منسوخ سرکاری حج اسکیم: واجبات کی دوسری قسط جمع کرانے کی آج آخری تاریخ، 97 ہزار عازمین کی ادائیگی مکمل امریکی و اسرائیلی حملے کھلی جارحیت، اسلام آباد مفاہمت بحال کی جائے: چینی وزیراعظم

عمران خان کی بہنوں پر تشدد قابلِ شرم اور ریاستی کمزوری کی علامت ہے،سہیل آفریدی

Web Desk

18 November 2025

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پنجاب پولیس کی جانب سے عمران خان کی بہنوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور طاقت کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفت میں خواتین پر ہاتھ اٹھانا انتہائی قابلِ افسوس، بزدلی اور ریاستی اداروں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

سہیل آفریدی کا ایکس پر بیان میں کہنا تھا کہ جب حکومتی مشینری سیاسی مخالفین کا سامنا کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو وہ گھریلو خواتین پر حملہ آور ہو جاتی ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل عمران خان کی اہلیہ کے خلاف بھی “گھٹیا الزامات” لگا کر منظم کردار کشی کی گئی، جو اسی سلسلے کا حصہ ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے یہ بھی بتایا کہ آج صوبائی وزیر مینا خان پر مبینہ تشدد اور قومی اسمبلی کے رکن شاہد خٹک سمیت دیگر منتخب نمائندوں کو گرفتار کرنے کی کوششیں نہ صرف قابلِ اعتراض ہیں بلکہ پارلیمانی تقدس کی خلاف ورزی بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین، قانون اور جمہوری اقدار کا عملاً جنازہ نکال دیا گیا ہے اور حالات کو دانستہ طور پر ایسی سمت دھکیلا جا رہا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہے گی۔
سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ “یہ سب کچھ تاریخ میں درج ہو رہا ہے، اور بعد میں نہ کوئی عورت کارڈ چلے گا، نہ جمہوریت اور نہ اخلاقیات کا ڈھونگ۔”