LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
عازمینِ حج کی سہولت کے لیے پاک حج ایپ میں متعدد نئے فیچرز متعارف پاکستان نے افغانستان میں اندرونی جھڑپوں سے متعلق الزامات مسترد کردیے یونانی دارالحکومت ایتھنز میں دھماکا،4 امریکیوں سمیت 6 افراد ہلاک راولپنڈی اور اسلام آباد میں انٹرنیٹ سروس متاثر، شہریوں کو مشکلات کا سامنا سہیل آفریدی کوبانی پی ٹی آئی کا مکمل اعتماد حاصل ہے، چیئرمین پی ٹی آئی ایران تجارت نہیں کرسکتا تو کوئی بھی تجارت نہیں کرے گا،ایرانی آرمی چیف یمنی فورسز کا حالیہ حملوں میں 4 ایرانی عسکری ماہرین کی ہلاکت کا دعویٰ امریکا صرف ایران کو مٹانے یا تباہ کرنے کا خواب ہی دیکھ سکتا ہے، ایرانی صدر ایرانی فوج کا خطے میں واشنگٹن کی کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دینے کا اعلان دھمکیوں اور پابندیوں سے اپنی مرضی مسلط کرنے کا دور ختم ہو رہا ہے، کاظم غریب آبادی ڈی آئی خان: چیک پوسٹ پر خودکش حملے کا مقدمہ درج، دہشتگردی سمیت 14 دفعات شامل چند ہفتوں میں ایران کے پاس تجارت یا بارٹر کیلئے کچھ نہیں بچے گا، سکاٹ بیسنٹ خیبرپختونخوا دہشتگردی کا شکار، کسی احتجاج یا مارچ کا متحمل نہیں ہوسکتا: فیصل کریم کنڈی ایران نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے دعوے مسترد کر دیے تحریک انصاف کی وجہ سے پورا اسلام آباد محاصرے میں رہا: شرجیل میمن

عمران خان کی بہنوں پر تشدد قابلِ شرم اور ریاستی کمزوری کی علامت ہے،سہیل آفریدی

Web Desk

18 November 2025

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پنجاب پولیس کی جانب سے عمران خان کی بہنوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور طاقت کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفت میں خواتین پر ہاتھ اٹھانا انتہائی قابلِ افسوس، بزدلی اور ریاستی اداروں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

سہیل آفریدی کا ایکس پر بیان میں کہنا تھا کہ جب حکومتی مشینری سیاسی مخالفین کا سامنا کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو وہ گھریلو خواتین پر حملہ آور ہو جاتی ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل عمران خان کی اہلیہ کے خلاف بھی “گھٹیا الزامات” لگا کر منظم کردار کشی کی گئی، جو اسی سلسلے کا حصہ ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے یہ بھی بتایا کہ آج صوبائی وزیر مینا خان پر مبینہ تشدد اور قومی اسمبلی کے رکن شاہد خٹک سمیت دیگر منتخب نمائندوں کو گرفتار کرنے کی کوششیں نہ صرف قابلِ اعتراض ہیں بلکہ پارلیمانی تقدس کی خلاف ورزی بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین، قانون اور جمہوری اقدار کا عملاً جنازہ نکال دیا گیا ہے اور حالات کو دانستہ طور پر ایسی سمت دھکیلا جا رہا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہے گی۔
سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ “یہ سب کچھ تاریخ میں درج ہو رہا ہے، اور بعد میں نہ کوئی عورت کارڈ چلے گا، نہ جمہوریت اور نہ اخلاقیات کا ڈھونگ۔”