LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، سعودی عرب کا زرعی و غذائی برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم دادو کے کچے علاقے میں دو گروہوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 8 افراد ہلاک کال سینٹر کے ذریعے غیر اخلاقی مواد کی فروخت: ایف آئی اے نے مزید 20 چینی شہریوں کو پاکستان بدر کر دیا پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ مشترکہ سلامتی و اجتماعی دفاع کیلئے متحد ہیں: وزیراعظم وزیراعظم آزاد کشمیر کا انٹرنیٹ اور داخلی و خارجی راستے بحال کرنے کا اعلان امریکا کے وعدے پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایران چین کی معروف کمپنی کا پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر میں اظہار دلچسپی نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی عہدیدار برطرف پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد سے مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں: ایرانی صدر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے 2 ہفتے مکمل، آج راولپنڈی میں تاریخی جلسے کا اعلان بانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی عمران خان بالکل فٹ ہیں، وزیر دفاع پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی

روئی کے ذخائر میں تاریخی کمی، کپاس کی قلت سے ٹیکسٹائل صنعت کے متاثر ہونے کا خدشہ

Web Desk

10 May 2026

ملک میں کپاس کا نیا جننگ سیزن شروع ہونے سے قبل روئی کے ذخائر میں غیر معمولی کمی سامنے آگئی ہے جس کے باعث آنے والے دنوں میں روئی کی شدید قلت اور بعض ٹیکسٹائل ملوں کے غیر فعال ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ نئے جننگ سیزن کے آغاز سے پہلے روئی کے ذخائر 10 ہزار گانٹھوں سے بھی کم سطح پر آگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث افغانستان سے تقریباً 5 لاکھ گانٹھ روئی درآمد نہ ہوسکی جبکہ خلیجی جنگ کے سبب درآمدی سرگرمیوں میں تعطل نے بھی مقامی صنعت کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔

احسان الحق کا کہنا تھا کہ انہی عوامل کے باعث مقامی مارکیٹ میں روئی کی فی من قیمت 22 ہزار روپے جبکہ مؤخر ادائیگی پر 23 ہزار 500 روپے تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں نیا کاٹن جننگ سیزن عیدالاضحیٰ کے فوری بعد شروع ہونے کا امکان ہے جبکہ جون کے تیسرے ہفتے سے نئی روئی کی فراہمی مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم نے کہا کہ پاکستان کو روئی میں خود کفیل بنانے کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق کاٹن زونز میں گنے کی کاشت پر مکمل پابندی عائد کرکے روئی اور خوردنی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے جس سے سالانہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے 2026 سے 2030 تک 5 ہزار 659 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جس کے تحت جدید بیجوں کی تیاری، موسمیاتی اثرات سے تحفظ اور جننگ فیکٹریوں کی اپ گریڈنگ شامل ہے۔

احسان الحق کے مطابق پاکستان میں اس وقت کپاس کی بوائی جاری ہے لیکن ڈیزل، بجلی اور کھادوں کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے نے کاشتکاروں کی مشکلات بڑھادی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی اے پی کھاد کی قیمت 16 ہزار روپے فی بیگ جبکہ یوریا کی قیمت 4 ہزار 500 روپے فی بوری تک پہنچ چکی ہے، جس سے فی ایکڑ پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔