روئی کے ذخائر میں تاریخی کمی، کپاس کی قلت سے ٹیکسٹائل صنعت کے متاثر ہونے کا خدشہ
Web Desk
10 May 2026
ملک میں کپاس کا نیا جننگ سیزن شروع ہونے سے قبل روئی کے ذخائر میں غیر معمولی کمی سامنے آگئی ہے جس کے باعث آنے والے دنوں میں روئی کی شدید قلت اور بعض ٹیکسٹائل ملوں کے غیر فعال ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ نئے جننگ سیزن کے آغاز سے پہلے روئی کے ذخائر 10 ہزار گانٹھوں سے بھی کم سطح پر آگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث افغانستان سے تقریباً 5 لاکھ گانٹھ روئی درآمد نہ ہوسکی جبکہ خلیجی جنگ کے سبب درآمدی سرگرمیوں میں تعطل نے بھی مقامی صنعت کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔
احسان الحق کا کہنا تھا کہ انہی عوامل کے باعث مقامی مارکیٹ میں روئی کی فی من قیمت 22 ہزار روپے جبکہ مؤخر ادائیگی پر 23 ہزار 500 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں نیا کاٹن جننگ سیزن عیدالاضحیٰ کے فوری بعد شروع ہونے کا امکان ہے جبکہ جون کے تیسرے ہفتے سے نئی روئی کی فراہمی مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم نے کہا کہ پاکستان کو روئی میں خود کفیل بنانے کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق کاٹن زونز میں گنے کی کاشت پر مکمل پابندی عائد کرکے روئی اور خوردنی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے جس سے سالانہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے 2026 سے 2030 تک 5 ہزار 659 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جس کے تحت جدید بیجوں کی تیاری، موسمیاتی اثرات سے تحفظ اور جننگ فیکٹریوں کی اپ گریڈنگ شامل ہے۔
احسان الحق کے مطابق پاکستان میں اس وقت کپاس کی بوائی جاری ہے لیکن ڈیزل، بجلی اور کھادوں کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے نے کاشتکاروں کی مشکلات بڑھادی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی اے پی کھاد کی قیمت 16 ہزار روپے فی بیگ جبکہ یوریا کی قیمت 4 ہزار 500 روپے فی بوری تک پہنچ چکی ہے، جس سے فی ایکڑ پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
متعلقہ عنوانات
اینکر مرید عباس سمیت 2 افراد کا قتل کیس، عاطف زمان کو 2 بار سزائے موت کا حکم
9 July 2026
بھارت سندھ طاس معاہدہ بحال کرے، پانی کو بطور ہتھیار بنانا قوانین کی خلاف ورزی ہے: اسحاق ڈار
9 July 2026
سونے کی قیمتوں میں زبردست اچھال: کراچی میں فی تولہ سونا 3600 روپے مہنگا، نیا ریکارڈ قائم
9 July 2026
ظہران ممدانی کا ارجنٹینا و مصر کے میچ میں متنازع فیصلوں پر ردِعمل
9 July 2026
ستھرا پنجاب پراجیکٹ: مالی بد عنوانی اور ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی متعدد شکایات
9 July 2026
لاہور اور کراچی میں امریکی قونصل خانے بحال، ویزا سروسز کا آغاز
9 July 2026
یورپی یونین پاکستان کا مضبوط تجارتی شراکت دار ہے: اسحاق ڈار
9 July 2026
فارن فنڈنگ کیس: چالان کی اسکروٹنی مکمل، بانی پی ٹی آئی و دیگر کے خلاف سماعت 7 ستمبر تک ملتوی
9 July 2026