LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا

وفاقی آئینی عدالت کی اسلام قبول کرنے والی خاتون عائشہ کو اپنی مرضی سے رہنے کی اجازت

Web Desk

21 May 2026

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرنے والی لاہور کی رہائشی خاتون عائشہ (سابقہ نام سونیا) کو میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں قانونی طور پر بالغ قرار دیتے ہوئے انہیں اپنی آزاد مرضی اور پسند کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے خاتون کے والدین کی جانب سے دائر کردہ حوالگی کی درخواست کو بھی مستقل طور پر نمٹا دیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران عدالت کے سامنے عائشہ کی عمر کے تعین کے لیے کرائے گئے میڈیکل ٹیسٹ کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے معزز عدالت کو آگاہ کیا کہ گزشتہ عدالتی حکم کے مطابق بچی کا طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے اور میڈیکل رپورٹ کے مطابق عائشہ کی اصل عمر 19 سے ساڑھے 19 سال کے درمیان ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ قانوناً بالغ ہیں۔

وکیل وسیم ممتاز نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ عدالتی دستاویزات اور فریقین کے دعووں میں عمر سے متعلق ابہام پایا جاتا تھا، اسی لیے میڈیکل بورڈ سے ٹیسٹ کرانا ناگزیر تھا۔ عدالت نے ہڈیوں کے ٹیسٹ (Ossification Test) کی اس حتمی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ چونکہ خاتون قانونی طور پر بالغ ثابت ہو چکی ہیں، اس لیے آئینِ پاکستان کے تحت انہیں اپنی مرضی سے رہنے اور اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کا مکمل اور قانونی حق حاصل ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ عائشہ اپنی آزاد مرضی سے فیصلہ کرنے کی مجاز ہیں، تاہم عدالت نے اخلاقی پہلو کو برقرار رکھتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر عائشہ کے والدین ان سے ملاقات کرنا چاہیں تو بیٹی کی جانب سے ان کی اس خواہش کا احترام کیا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے حتمی فیصلے اور عمر کے تعین تک عائشہ کو عارضی طور پر دارالامان منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق، لاہور سے تعلق رکھنے والی سونیا نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر کے اپنا نیا نام عائشہ رکھا تھا۔ انہوں نے عدالت کے روبرو اپنا باقاعدہ بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے والدین اور خاندان والے ان پر اسلام چھوڑ کر دوبارہ عیسائیت اختیار کرنے کے لیے شدید ذہنی و جسمانی دباؤ ڈال رہے ہیں، جس کے باعث ان کی جان کو خطرہ ہے۔ عدالت نے عائشہ کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے انہیں اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کی آزادی دے دی ہے۔