LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آئرلینڈ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 نوجوان ہلاک، 4 افراد زخمی سعودی عرب میں بدھ تک شدید گرمی، درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچنے کی پیشگوئی عراق میں بس اور ٹرک میں تصادم، 7 سیاح جاں بحق، 23 زخمی آبنائے ہرمز میں تیل کے اخراج سے ماحولیاتی نقصان کھربوں ڈالر ہو سکتا ہے: ایران سعودی عرب میں قوانین کی خلاف ورزی پر 14 ہزار غیر ملکی گرفتار یہودی آباد کاروں کا مسجد اقصیٰ میں زبردستی تلمودی رسومات ادا کرنے کے واقعات میں اضافہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا ہر 30 منٹ میں ایک جان لینے لگی: ڈبلیو ایچ او انڈونیشیا میں زلزلے سے اموات 51 ہو گئیں، 341 آفٹر شاک ریکارڈ امریکی ریاست انڈیانا میں طوفان، سیلاب سے 6 افراد ہلاک، لاکھوں افراد بجلی سے محروم چین نے انٹرنیٹ سیٹلائٹس کی نئی کھیپ خلا میں بھیج دی یمن میں 48 گھنٹوں کے دوران 200 سے زائد حوثی باغی ہلاک ہو گئے ٹرمپ انتظامیہ کے ایران سے خفیہ رابطوں کا انکشاف افغانستان کا کابل میں امریکی سفارتخانہ کھولنے کا مطالبہ، واشنگٹن کا صاف انکار سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی ہی سب سے مستحکم سرمایہ کاری ہے: یاسمین فواد مودی سرکار کی پالیسیوں سے تنگ کاکروچ جنتا پارٹی کا ’’سکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کا آغاز

مودی سرکار کی پالیسیوں سے تنگ کاکروچ جنتا پارٹی کا ’’سکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کا آغاز

Web Desk

17 August 2026

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے ریاست مہاراشٹر کے ضلع ہنگولی میں اپنے آبائی گاؤں سنوک پیچری کے ایک سرکاری سکول سے ”سکول ٹھیک کرو“ مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق سکول کے طلباء سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے کہا کہ اب عوام کو تعلیم کی اہمیت سمجھ آ چکی ہے اور سیاسی جماعتوں پر دباؤ بڑھا کر انہیں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے کام کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم رہیں لیکن کسی نے بھی سرکاری سکولوں کی بدحالی پر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ ”ہر گھر ترنگا“ مہم اور سیاسی اشتہار بازی کی رقم اگر سکولوں پر خرچ کی جاتی تو بچوں کا مستقبل بہتر ہو سکتا تھا۔ انہوں نے مودی حکومت کی نئی پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاؤس کی تعمیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ حکمران دیہاتوں میں نئے تعلیمی ادارے کیوں قائم نہیں کر سکتے اور کیا کسانوں و مزدوروں کے بچے اس ملک کا مستقبل نہیں ہیں