LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ماہ نور صفدر کی نکاح کی تقریب، شہباز شریف سمیت اہم شخصیات جاتی امرا پہنچ گئیں پرائیویٹ حج سکیم: 7600 عازمین کی بکنگ مکمل ہو چکی: ترجمان مذہبی امور نئے صوبوں کے قیام کیلئے پورے ملک میں ریفرنڈم کرایا جائے: فاروق ستار سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم 20 ستمبر کو ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے: حافظ نعیم الرحمان نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، حکومت خود ریفرنڈم نہیں کرا سکتی:رانا ثناء اللہ مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ عمومی کا اجلاس 19 اور 20 ستمبر کو پشاور میں طلب کر لیا روس میں بین الاقوامی یوتھ فیسٹیول کا آغاز، 250 پاکستانی نوجوان شریک پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بحالی: وزیراعظم افتخار گیلانی کا اہم اعلان انصاف کی بروقت فراہمی ناگزیر، تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں: چیف جسٹس تھائی لینڈ میں پاکستان کے 61ویں یوم دفاع و شہداء کی پروقار تقریب امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے: مسعود پزشکیان ناروے کے بادشاہ کی آخری رسومات کے دو دن بعد شہزادی بھی چل بسیں 9/11 انہی لوگوں نے کیا جن کو امریکا نے ہتھیار فراہم کیے تھے: اسماعیل بقائی

ایران پر حملہ، نوبیاہتا جوڑے میں سے بیوی آسٹریلیا روانہ، شوہر دوحا میں رہ گیا

Web Desk

5 March 2026

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال نے ہزاروں مسافروں کو متاثر کیا، جن میں چین کا ایک نوبیاہتا جوڑا بھی شامل ہے جو ہنی مون کے دوران ایک دوسرے سے بچھڑ گیا۔

چین کے صوبہ ژجیانگ (Zhejiang) سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا 19 فروری کو مشرقِ وسطیٰ کی سیر کے لیے روانہ ہوا تھا تاکہ مختلف ممالک کی سیاحت کر سکے۔ ان کے سفر کا آخری پڑاؤ قطر تھا، جہاں سے انہیں آسٹریلیا کے شہر سڈنی جانا تھا کیونکہ شوہر یو وہاں ملازمت کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں کو ایک ہی تاریخ کی فلائٹ دستیاب نہ ہو سکی۔ یو کی اہلیہ زینگ کو 28 فروری کی صبح 9 بجے دوحا سے آسٹریلیا کے لیے پرواز مل گئی، جبکہ یو کی فلائٹ یکم مارچ کی صبح روانہ ہونا تھی۔

اسی دوران 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی اور دبئی اور دوحا کے ہوائی اڈے عارضی طور پر بند کر دیے گئے۔ اس صورتحال کے باعث اب تک 11 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ مسافر متاثر ہوئے ہیں۔

زینگ خوش قسمت ثابت ہوئی جو حملے سے قبل دوحا سے سڈنی روانہ ہو گئی، تاہم اس کا شوہر یو قطر میں ہی پھنس گیا۔ یو کے مطابق اگر وہ فوری فلائٹ لینے کی کوشش کرتا تو اسے تقریباً 5 ہزار ڈالر ادا کرنا پڑتے جو اس کے لیے ممکن نہیں تھا، اس لیے اس نے 13 مارچ کی مفت دستیاب پرواز کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔

یو اس وقت دوحا کے ایک ہوٹل میں مقیم ہے جہاں ہر رات کا کرایہ 90 ڈالر ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے کئی میزائلوں کو آسمان میں پھٹتے دیکھا اور یہ اس کی زندگی کا پہلا موقع ہے جب اس نے کسی جنگ کو اتنی قریب سے دیکھا۔

یو نے بتایا کہ اس نے اپنی کمپنی کو بھی صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے تاکہ اس کی ملازمت متاثر نہ ہو۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کے لیے یوٹیوب ٹائٹل، ڈسکرپشن، ٹیگز اور تھمب نیل ٹیکسٹ بھی تیار کر سکتا ہوں۔