LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک میں بھی شامل ہوں گے: ترک صدر کیلیفورنیا اسٹیٹ اسمبلی میں پاک امریکا تعلقات کو خراج تحسین کی تاریخی قرارداد منظور امریکی ریاست ٹیکساس میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 2 افراد ہلاک آسٹریا: روسی دفاعی صنعت کو سامان کی فراہمی پر 2 بیلا روسی شہریوں کو سزا سنا دی گئی امریکہ میں جعلی شادیوں کے ذریعے امیگریشن فراڈ کا بڑا سکینڈل بے نقاب کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے آخر میں عہدہ چھوڑ دیں گی، ٹرمپ امریکا کی جانب سے جوہری ہتھیار استعمال کرنےکی کوشش پر ایران کی سخت ردعمل کی دھمکی عراق نے اکتوبر تک غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی ختم کرنےکا عزم ظاہر کر دیا ایران نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دے دیا ایرانی عدالت نے اسرائیلی اور امریکی مفادات کیلئےکام کرنےکے الزام میں خاتون صحافی کو 15 سال قید کی سزا سنادی انقرہ میں ٹرمپ کے طیارے پر حملے کی سازش کی اسرائیلی رپورٹ جعلی ہے، ترک حکام امریکا کے وفاقی بجٹ خسارے میں ریکارڈ اضافہ کانگریس رکنِ الہان عمر نے مینیسوٹا سے ڈیموکریٹک پرائمری جیت لی بجلی صارفین پر اگلے 3 ماہ کیلئے 23 ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل پیپلزپارٹی نے آزادکشمیر کے الیکشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی: طارق فضل چودھری

چین کا قمری مشن پیشرفت کی جانب، ’گوانگ ہان محل‘ منصوبے میں اہم سنگِ میل

Web Desk

28 November 2025

چین نے چاند پر ’گوانگ ہان محل‘ تعمیر کرنے کے اپنے طویل المدتی ہدف کی جانب ایک اور قدم بڑھا لیا ہے، جہاں خصوصی طور پر تیار کی گئی 100 گرام وزنی اینٹیں کامیابی سے زمین پر واپس پہنچ گئی ہیں۔ یہ اینٹیں چاند کی سخت ترین سطح کو برداشت کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی تھیں اور تقریباً ایک سال کے تجرباتی مشن کے بعد واپس لائی گئیں۔

ماہرین کے مطابق Shenzhou-21 مشن کے ذریعے لائی گئی 34 اینٹیں اپنی پہلی سالانہ مدت میں مکمل محفوظ رہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں چاند پر طویل مدتی ڈھانچے کی تعمیر ممکن ہوسکتی ہے۔ ابتدائی معائنے کے مطابق تمام اینٹیں اچھی حالت میں ہیں، تاہم ہلکی رنگت کی تبدیلی کے اسباب جاننے کے لیے مزید تحقیق کی جائے گی۔

ٹائم میگزین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین چاند پر ’Guanghan Palace‘ نامی ایک تحقیقی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جو ایک روایتی چینی داستان سے متاثر ہے۔ یہ منصوبہ چین کی قمری تحقیق اور مستقل موجودگی کے طویل المدتی خلائی پروگرام کا حصہ ہے۔

ابتدائی منصوبے کے تحت اس مرکز کی تعمیر 2028 میں شروع کرنے اور بنیادی ڈھانچہ 2035 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ چین کے خلانورد 2030 تک چاند پر پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔