LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا وزیر مذہبی امور کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، حج سے متعلق امور پر گفتگو وزیراعظم کو عوامی ہال میں چینی ہم منصب کا پرتپاک استقبالیہ، گارڈ آف آنر پیش پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال عوامی ٹرانسپورٹ میں اوورچارجنگ، اوورلوڈنگ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم امریکا،ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں: امریکی میڈیا سوات ایکسپریس وے پر وین کی بس کو ٹکر، 11 افراد جاں بحق، 7 زخمی

چین کا قمری مشن پیشرفت کی جانب، ’گوانگ ہان محل‘ منصوبے میں اہم سنگِ میل

Web Desk

28 November 2025

چین نے چاند پر ’گوانگ ہان محل‘ تعمیر کرنے کے اپنے طویل المدتی ہدف کی جانب ایک اور قدم بڑھا لیا ہے، جہاں خصوصی طور پر تیار کی گئی 100 گرام وزنی اینٹیں کامیابی سے زمین پر واپس پہنچ گئی ہیں۔ یہ اینٹیں چاند کی سخت ترین سطح کو برداشت کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی تھیں اور تقریباً ایک سال کے تجرباتی مشن کے بعد واپس لائی گئیں۔

ماہرین کے مطابق Shenzhou-21 مشن کے ذریعے لائی گئی 34 اینٹیں اپنی پہلی سالانہ مدت میں مکمل محفوظ رہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں چاند پر طویل مدتی ڈھانچے کی تعمیر ممکن ہوسکتی ہے۔ ابتدائی معائنے کے مطابق تمام اینٹیں اچھی حالت میں ہیں، تاہم ہلکی رنگت کی تبدیلی کے اسباب جاننے کے لیے مزید تحقیق کی جائے گی۔

ٹائم میگزین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین چاند پر ’Guanghan Palace‘ نامی ایک تحقیقی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جو ایک روایتی چینی داستان سے متاثر ہے۔ یہ منصوبہ چین کی قمری تحقیق اور مستقل موجودگی کے طویل المدتی خلائی پروگرام کا حصہ ہے۔

ابتدائی منصوبے کے تحت اس مرکز کی تعمیر 2028 میں شروع کرنے اور بنیادی ڈھانچہ 2035 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ چین کے خلانورد 2030 تک چاند پر پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔