LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر ابوظہبی کا دورہ کیا: اسرائیلی وزیراعظم دفتر حافظ نعیم سے منسوب لغو بات پھیلائی جا رہی ہے: لیاقت بلوچ قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل امریکا، اسرائیل کی ایران کو پسماندگی میں دھکیلنے کی کوشش ناکام ہوگئی: ایرانی سپریم لیڈر ٹرمپ کی ایران کو پابندیوں میں ریلیف اور منجمد اثاثوں کی پیشکش کی تردید سلامتی کونسل: پاکستان کا 1967 کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کے فوری قیام کا مطالبہ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

Web Desk

24 November 2025

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے میں مسلسل تاخیر پر وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا ہے۔ خط میں وزیراعلیٰ نے منصوبے پر طویل تعطل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کا 35 سال بعد بھی شروع نہ ہونا وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کی کمی ظاہر کرتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ اکارڈ کے تحت باقی تینوں صوبوں کے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ سی آر بی سی لیفٹ کینال منصوبے پر پیشرفت نہیں ہوئی۔ 2016ء میں سی سی آئی نے منصوبے کی فنانسنگ کا منصوبہ بنایا، جس میں 65 فیصد وفاق اور 35 فیصد رقم خیبر پختونخوا کے ذمے مقرر کی گئی تھی۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے منصوبے جان بوجھ کر روک رکھے ہیں، ایکنک نے اکتوبر 2022ء میں 189 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی مگر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ واپڈا کی جانب سے پروکیورمنٹ، پری کوالیفکیشن اور لینڈ ایکوزیشن کے عمل میں بھی تاخیر جاری ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے زمین کے حصول کے لیے پہلے ہی 2 ارب روپے جاری کیے اور رواں مالی سال میں مزید 5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی آر بی سی منصوبہ معیشت اور زراعت میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور سالانہ 38 ارب روپے کا معاشی فائدہ فراہم کر سکتا ہے۔ منصوبہ 2.8 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین سیراب کرے گا، اس لیے وفاق فوری فنڈنگ فراہم کرے تاکہ بلا تاخیر عملی کام شروع کیا جا سکے، بصورت دیگر عوام میں شدید بے چینی اور اعتماد کا بحران پیدا ہوگا۔