LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
لبنان اور اسرائیل کے مذاکرات شرمندگی اور ذلت کا باعث ہوں گے: حزب اللہ مریم نواز سے خوشاب کے ایم پی ایز کی ملاقات، عوامی مسائل کے حل کی یقین دہانی پاکستان سمیت 4 ممالک کے عمرہ زائرین کیلئے لازمی فوڈ واؤچر متعارف لندن میں مقیم پاکستانیوں کو جائیداد کی ڈیجیٹل منتقلی کی سہولت مل گئی فوجی دستوں سے مکمل رابطہ، استعفیٰ نہیں دوں گا اور ڈٹا رہوں گا: ایرانی صدر پنجاب اسمبلی: 5 اگست 2019 کے کشمیر مخالف بھارتی اقدامات کیخلاف قرارداد جمع پاکستان کی چین کو ایک ارب30 کروڑ ڈالر کی ری فنانسنگ کیلئے باضابطہ درخواست پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ملک بھر میں چہلم امام حسینؓ و شہداء کربلا عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے پولیس افسروں اور جوانوں کی عظیم قربانیاں پوری قوم کیلئے باعث فخر ہیں: صدر مملکت حج رجسٹریشن کرانے والوں کی تعداد 3 لاکھ 81 ہزار سے تجاوز کر گئی سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے مودی حکومت کو کشمیر میں دہشتگردی کا ذمہ دار قرار دیدیا میانمار میں تربیتی پرواز کے دوران لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ محفوظ رہا مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ کے شمال مشرق میں 5.5 شدت کا زلزلہ واشنگٹن میں جنگل کی آگ بے قابو، 5 ہزار گھر خالی، 600 عمارتیں تباہ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

Web Desk

24 November 2025

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے میں مسلسل تاخیر پر وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا ہے۔ خط میں وزیراعلیٰ نے منصوبے پر طویل تعطل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کا 35 سال بعد بھی شروع نہ ہونا وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کی کمی ظاہر کرتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ اکارڈ کے تحت باقی تینوں صوبوں کے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ سی آر بی سی لیفٹ کینال منصوبے پر پیشرفت نہیں ہوئی۔ 2016ء میں سی سی آئی نے منصوبے کی فنانسنگ کا منصوبہ بنایا، جس میں 65 فیصد وفاق اور 35 فیصد رقم خیبر پختونخوا کے ذمے مقرر کی گئی تھی۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے منصوبے جان بوجھ کر روک رکھے ہیں، ایکنک نے اکتوبر 2022ء میں 189 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی مگر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ واپڈا کی جانب سے پروکیورمنٹ، پری کوالیفکیشن اور لینڈ ایکوزیشن کے عمل میں بھی تاخیر جاری ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے زمین کے حصول کے لیے پہلے ہی 2 ارب روپے جاری کیے اور رواں مالی سال میں مزید 5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی آر بی سی منصوبہ معیشت اور زراعت میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور سالانہ 38 ارب روپے کا معاشی فائدہ فراہم کر سکتا ہے۔ منصوبہ 2.8 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین سیراب کرے گا، اس لیے وفاق فوری فنڈنگ فراہم کرے تاکہ بلا تاخیر عملی کام شروع کیا جا سکے، بصورت دیگر عوام میں شدید بے چینی اور اعتماد کا بحران پیدا ہوگا۔