LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر: مشترکہ اعلامیے میں “چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” کے قیام بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج امریکا کو خطے میں مزید اڈے قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پنجاب میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شدید ہیٹ ویو کا خدشہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے مریم نواز کی اے آئی آئی بی کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں شراکت داری کی پیشکش پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

Web Desk

24 November 2025

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے میں مسلسل تاخیر پر وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا ہے۔ خط میں وزیراعلیٰ نے منصوبے پر طویل تعطل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کا 35 سال بعد بھی شروع نہ ہونا وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کی کمی ظاہر کرتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ اکارڈ کے تحت باقی تینوں صوبوں کے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ سی آر بی سی لیفٹ کینال منصوبے پر پیشرفت نہیں ہوئی۔ 2016ء میں سی سی آئی نے منصوبے کی فنانسنگ کا منصوبہ بنایا، جس میں 65 فیصد وفاق اور 35 فیصد رقم خیبر پختونخوا کے ذمے مقرر کی گئی تھی۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے منصوبے جان بوجھ کر روک رکھے ہیں، ایکنک نے اکتوبر 2022ء میں 189 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی مگر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ واپڈا کی جانب سے پروکیورمنٹ، پری کوالیفکیشن اور لینڈ ایکوزیشن کے عمل میں بھی تاخیر جاری ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے زمین کے حصول کے لیے پہلے ہی 2 ارب روپے جاری کیے اور رواں مالی سال میں مزید 5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی آر بی سی منصوبہ معیشت اور زراعت میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور سالانہ 38 ارب روپے کا معاشی فائدہ فراہم کر سکتا ہے۔ منصوبہ 2.8 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین سیراب کرے گا، اس لیے وفاق فوری فنڈنگ فراہم کرے تاکہ بلا تاخیر عملی کام شروع کیا جا سکے، بصورت دیگر عوام میں شدید بے چینی اور اعتماد کا بحران پیدا ہوگا۔