LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش

غزہ میں جنگ بندی معاہدہ یکطرفہ، تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے: خواجہ آصف

Web Desk

30 November 2025

ماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر خواجہ آصف کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے کم از کم 352 فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں 70,000 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے اس معاہدے کا مقصد خطے میں استحکام لانا تھا، لیکن اسرائیل کی کارروائیوں نے اس کی معاہدے پر عمل درآمد کی نیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا نسل کشی کا عمل ختم نہیں ہوا، اور بین الاقوامی برادری، خصوصاً مغربی حکومتوں، کو چاہیے کہ اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی پابندی کے لیے دباؤ جاری رکھیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے مزید کہا کہ وہ مسلم ممالک جنہوں نے معاہدے کی حمایت کی تھی، ترکی، مصر اور قطر کو جاری تشدد کے پیشِ نظر اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، ترکیہ صدر رجب طیب اردوان پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔