LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولینڈ کے شہر کراکوف میں مسلح شخص کی فائرنگ سے 6 افراد ہلاک، 15 زخمی ایران نے میزائل اور ڈرون کی پیداواری لائنیں زیر زمین منتقل کر دیں، پاسداران انقلاب ایران کو روس سے جدید ایس 400 ائیر ڈیفنس سسٹم ملنے کا امکان، معاہدہ طے پا گیا وزیراعلیٰ پنجاب کے دورہ لندن کے اخراجات کی تفصیل دی جائے، پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا جمع افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے ذاتی محافظ کو قتل کردیا گیا روس نے ایک دن میں یوکرین کے 903 ڈرونز اور 4 نیپچون میزائل مار گرائے، وزارت دفاع دبئی کے پرفیوم برانڈ نے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ایران امریکا کشیدگی سفارتکاری سے حل کرنے پر زور جے ڈی وینس نے آئندہ الیکشن کیلئے الگ سیاسی بیانیہ تشکیل دینے کی کوششیں تیز کر دیں ایران کے جزیرے قشم میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں نیتن یاہو وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر، گادی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کی دعوت سندھ میں تعلیم کا بجٹ 601 ارب روپے، صورتحال تسلی بخش نہیں: حافظ نعیم الرحمان ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکا کو تباہ کن جواب دیں گے: محسن رضائی ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے 300 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ فرانس میں یونینز اور طلبہ تنظیموں کا ایک اور احتجاجی مظاہرے کا اعلان

غزہ میں جنگ بندی معاہدہ یکطرفہ، تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے: خواجہ آصف

Web Desk

30 November 2025

ماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر خواجہ آصف کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے کم از کم 352 فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں 70,000 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے اس معاہدے کا مقصد خطے میں استحکام لانا تھا، لیکن اسرائیل کی کارروائیوں نے اس کی معاہدے پر عمل درآمد کی نیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا نسل کشی کا عمل ختم نہیں ہوا، اور بین الاقوامی برادری، خصوصاً مغربی حکومتوں، کو چاہیے کہ اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی پابندی کے لیے دباؤ جاری رکھیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے مزید کہا کہ وہ مسلم ممالک جنہوں نے معاہدے کی حمایت کی تھی، ترکی، مصر اور قطر کو جاری تشدد کے پیشِ نظر اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، ترکیہ صدر رجب طیب اردوان پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔