آج تک نہیں بتایاگیا سعودیہ سے کیامعاہدہ ہواہے،عمران خان سے ملاقاتیں نہ کرانا افسوسناک ہے، بیرسٹر گوہر
Web Desk
7 April 2026
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ہمیں حکومت نے آج تک نہیں بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ کیا معاہدہ ہوا ہے لیکن ہمیں حرمین شریفین کی حفاظت کے معاہدے پر فخر ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ2025 کے بعد پاکستان کا اسٹیٹس کافی تبدیل ہوا ہے، جس انداز سے دنیا پاکستان کو دیکھ رہی ہے، امریکا اور یورپ کی پاکستان کی جانب اپروچ تبدیل ہوئی ہے، یہ سب پاکستانی عوام کی یک جہتی، سپورٹ اور افواج پاکستان کی بہادری کی وجہ سے ہوا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں، سمجھتے ہیں جنگ نہیں ہونی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں پاکستان بہترین کردار ادا کرے لیکن ہمیں بتائیں تو صحیح کیا مذاکرات ہو رہے ہیں، پاکستان کا کیا کردار ہے اور آپ جو ثالثی کررہے ہیں وہ کس مرحلے پر ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ ہوا، حرمین شریفین کی حفاظت کے معاہدے پر فخر ہے، بانی پی ٹی آئی نے بھی کہا اور سب نے کہا سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ بہت اچھا ہے لیکن ہمیں حکومت نے آج تک نہیں بتایا کہ سعودی معاہدہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں، سیاسی سوچ رکھتے ہیں، تحریک بھی چلائیں گے، احتجاج کریں گے اور عدالتوں میں جائیں گے جبکہ عمران خان سے ملاقاتیں نہ ہونا افسوس ناک ہے، ہماری ملاقاتیں اکتوبر سے نہیں ہو رہی ہیں اور جنوری سے سارے تشویش کا شکار ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ گر آپ سوچ رہے ہیں کہ عمران خان اور عوام کے درمیان تفرقہ ڈال دیں گے تو یہ آپ کی غلط سوچ ہے، برائے مہربانی ملک پر رحم کریں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان سے وکیل کی ملاقات کافی نہیں، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی فیملی ملاقات بھی ہونی چاہیے، بہنوں نے یہاں تک کہا کہ ملاقات کے بعد پریس ٹاک تک نہیں کریں گی لیکن یہ بات بھی نہیں مانی گئی۔ ایسے ہتھکنڈوں سے بانی کی مقبولیت کم نہیں ہوسکتی بلکہ اس سے نفرت بڑھ رہی ہے اور ملک کےلیے اچھا نہیں ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی پر کوئی تحفظات نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی جب فیصلہ کرلیں تو پارٹی اس کو قبول کرتی ہے، علامہ راجا ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی نے تحریک چلانی ہے یا جو کرنا ہے یہ ان کا فیصلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے پاس بانی کی تحریری ہدایات آئی تھیں جو علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان ہدایت کریں گے پارٹی اس پر عمل کرے گی، میرا خیال تھا کہ جلد حالات تبدیل ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے بعد اسمبلی کے سیشن میں محمود خان اچکزئی صاحب نے شرکت کی ہے، امید ہے کہ ہم بہتری کی طرف جائیں گے، اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر پارٹی تنقید نہیں کررہی بلکہ پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
متعلقہ عنوانات
سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار
29 April 2026
انٹر پول نے ملک ریاض اور علی ریاض ملک کے ریڈ وارنٹ جاری کر دیئے
29 April 2026
پاکستان میں کرپشن بارے آئی ایم ایف رپورٹ معتصب، نامناسب ہے: چیئرمین نیب
29 April 2026
بلاول بھٹو زرداری سے ازبکستان کے نووئی ریجن کے گورنر کی ملاقات
29 April 2026
پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم
29 April 2026
شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کی سندھ حکومت پر کڑی تنقید؛ کراچی کی بدحالی لا ذمے دار کون۔۔؟
29 April 2026
پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، پاک فوج کا بھرپور جواب
29 April 2026
وفاقی کابینہ کا اجلاس، مشرقِ وسطیٰ تنازع میں پاکستان کی کوششوں کا جائزہ
29 April 2026