LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں اتاریں گے: جے ڈی وینس پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین، آئین میں تبدیلیوں کا فیصلہ لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ ایران نے امریکا کے حملوں کے باوجود امریکی خاتون رہا کر دی، ٹرمپ کا خیرمقدم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ایک لاکھ 77 ہزار پوائنٹس کی حد بحال صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی سفارش پر 3سمریوں کی منظوری دے دی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار 2 روزہ دورے پر چین روانہ افغان طالبان کیخلاف قانونی چارہ جوئی، عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمہ تیار مودی کی نااہلی سے بھارت خواتین کیلئے سب سےغیر محفوظ ملک بن گیا پشاور: تہکال پایان میں گھر میں آتشزدگی، میاں بیوی سمیت 6 افراد جاں بحق پنجاب اسمبلی میں پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر تقریب پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق بھارتی میڈیا مولانا فضل الرحمان کے بیان کو پاکستان کیخلاف استعمال کر رہا ہے،طارق فضل چوہدری مراکش کے امریکی صدر کے حمایت یافتہ غزہ بورڈ آف پیس کے معاہدے پر دستخط

شیخ حسینہ کی وطن واپسی کا خیرمقدم، سزائے موت پر نظر ثانی ہو سکتی ہے: بنگلہ دیش

Web Desk

16 July 2026

بنگلہ دیشی حکومت نے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے رواں سال کے اختتام تک رضاکارانہ طور پر وطن واپس آنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں بنگلہ دیش واپسی پر قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔ بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم کے مشیر زاہد الرحمٰن نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ حکومت ان کی واپسی کا خیرمقدم کرتی ہے اور انہیں دفاع کے لیے دنیا کے بہترین وکلاء لانے کی مکمل آزادی ہوگی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل میں ان کے خلاف مقدمے کی سماعت انتہائی شفاف ہوگی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ عدالت ان کی سزائے موت کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے یا انہیں بری کر دے۔ یاد رہے کہ اگست 2024ء میں پرتشدد طلبہ احتجاج کے بعد بھارت فرار ہونے والی 78 سالہ شیخ حسینہ واجد کو گزشتہ سال نومبر میں عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی تھی، جسے وہ سیاسی انتقام قرار دے کر مسترد کر چکی ہیں۔ دوسری جانب، بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اس معاملے پر محتاط ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حوالگی سے متعلق کسی بھی درخواست سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔