LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مودی کی نااہلی سے بھارت خواتین کیلئے سب سےغیر محفوظ ملک بن گیا پشاور: تہکال پایان میں گھر میں آتشزدگی، میاں بیوی سمیت 6 افراد جاں بحق پنجاب اسمبلی میں پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر تقریب پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق بھارتی میڈیا مولانا فضل الرحمان کے بیان کو پاکستان کیخلاف استعمال کر رہا ہے،طارق فضل چوہدری مراکش کے امریکی صدر کے حمایت یافتہ غزہ بورڈ آف پیس کے معاہدے پر دستخط ایرانی چیمبر کا صدر مسعود پزشکیان سے باضابطہ ملک میں جنگی حالت کا اعلان کرنے کا مطالبہ سعودی شہر ریاض میں گیس سلینڈر کا دھماکا، 6 پاکستانی جاں بحق تہران اور واشنگٹن میں سخت گیر عناصر جنگ کو آگے بڑھا رہے ہیں: عرب میڈیا امریکی ایوان نمائندگان میں اسرائیلی فوجی امداد روکنے کی تجویز مسترد دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کا مسلسل دوسری مرتبہ فائنل میں پہنچنے پر بھرپور جشن جیرڈ کشنر، سٹیو وٹکوف مذاکرات میں مالی فائدے اٹھاتے رہے: جے ڈی وینس کو خفیہ پیغام موصول انسانی حقوق کی تنظیموں نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا انتونیو گوتریس کا امریکا و ایران میں بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار امریکا نے اہواز میں کینسر ہسپتال کے اطراف کے علاقوں کو نشانہ بنایا، حسین کرمان پور

تہران اور واشنگٹن میں سخت گیر عناصر جنگ کو آگے بڑھا رہے ہیں: عرب میڈیا

Web Desk

16 July 2026

ایران اور امریکا کے درمیان جاری خونریز عسکری تصادم کو 5 ماہ گزرنے کے بعد صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر گئی ہے۔ عرب میڈیا کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، تہران اور واشنگٹن دونوں اطراف میں موجود سخت گیر (ہارڈ لائنر) عناصر اس وقت فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں، جس کے باعث امن مذاکرات اور کسی بھی ممکنہ مفاہمتی یادداشت کی کوششیں مکمل طور پر پسِ پشت چلی گئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فضائی اور بحری فوجی کارروائیوں کا دائرہ کار دوبارہ وسیع کر دیا ہے اور یہ تازہ حملے اب مسلسل پانچویں دن میں داخل ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب، ایران نے بھی دفاعی پوزیشن سے نکل کر خلیجی خطے میں امریکی تنصیبات اور مفادات کے خلاف اپنی جوابی کارروائیاں دوبارہ تیز کر دی ہیں۔ ایرانی قیادت بارہا یہ انتباہ جاری کر چکی ہے کہ اگر امریکی یا اسرائیلی افواج نے براہِ راست اس کی سرزمین کو نشانہ بنایا، تو وہ اس جنگ کو پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیلا دے گا؛ اور جنگ کے 5 ماہ گزرنے کے بعد بھی تہران اسی جارحانہ حکمتِ عملی پر سختی سے کاربند نظر آتا ہے۔