LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران جانی نقصان پر اظہار تعزیت پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں پارلیمانی امور پر مشاورت، اجلاس میں اہم معاملات زیر غور پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے کرسچن میرج بل 2026 کی منظوری دے دی پاکستان ایس سی او سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کیلئے پرعزم ہے: اسحاق ڈار ماسکو میں عالمی مذہبی کانفرنس، پاکستان سمیت 40 ممالک کے وفود کی شرکت آئی پی پیز نے ملک کی کمر توڑ دی، سسٹم کو بدل کر ضلعی معیشت پر جانا ہوگا، ایس ایم تنویر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے وکلا کی فہرست جیل حکام کے حوالے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کی سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات، الوداعی دورہ دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کے پی حکومت گورننس اور دہشت گردی روکنے میں مکمل ناکام، سیاست کو زندگیوں پر ترجیح دی جا رہی ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ FIA انسداد دہشت گردی ونگ کی بڑی کارروائی، افغانیوں کے منسوخ شدہ شناختی کارڈ بحال کرنے والا نادرا کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار سندھ طاس معاہدہ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ، یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے: عطاء تارڑ ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کے لیے بڑا اقدام، سیلز ٹیکس کی نئی شرحیں مقرر ایف بی آر کا سخت فیصلہ، مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے کاروباری مراکز سیل کرنے کا اعلان ورلڈکپ 2027: پاکستان اور بھارت کو پھر ایک ہی گروپ میں رکھنے کا امکان

سائنس دانوں کا ستارے کی موت کے نایاب منظر کا مشاہدہ

Web Desk

6 August 2026

ماہرینِ فلکیات نے تاریخ میں پہلی بار ایک ستارے کی موت اور اس کے تباہ ہونے کے ابتدائی لمحے کا انتہائی تفصیل کے ساتھ مشاہدہ کیا ہے، جس سے یہ سائنسی امکان پیدا ہو گیا ہے کہ بعض عظیم الجثہ ستارے پہلے سے معلوم طریقوں سے مختلف اور ایک بالکل نئے انداز میں اپنا انجام پاتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال آئن اسٹائن پروب (Einstein Probe) نامی خلائی دوربین نے زمین سے تقریباً 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک دور دراز کہکشاں سے آنے والی ایک مختصر مگر انتہائی طاقتور ایکس رے (X-Ray) شعاع کو ریکارڈ کیا تھا، جسے فلکیاتی دنیا میں EP260321A کا نام دیا گیا۔ اس حیران کن دریافت کے فوری بعد دنیا بھر کے سائنس دانوں اور فلکیاتی مراکز نے اس مخصوص مقام کا تفصیلی مشاہدہ شروع کیا۔

دو مختلف اور آزاد تحقیقی ٹیموں کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق اس ابتدائی ایکس رے اخراج کو ’شاک بریک آؤٹ‘ (Shock Breakout) قرار دیا گیا ہے۔ یہ نایاب اور طاقتور مظہر اس وقت وجود میں آتا ہے جب کسی ستارے میں سپرنووا (Supernova) دھماکے کی صدمے کی تیز رفتار لہر اس کی سطح کو پھاڑ کر باہر نکلتی ہے اور دھماکے سے پیدا ہونے والی پہلی روشنی کو خلا میں خارج کرتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اگرچہ ‘شاک بریک آؤٹ’ کا عمل ہر سپرنووا دھماکے کے دوران پیش آنے کا قوی امکان ہوتا ہے، تاہم یہ محض چند سیکنڈز تک ہی برقرار رہتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا براہِ راست مشاہدہ اور ڈیٹا ریکارڈ کرنا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔ اس سے قبل فلکیاتی تاریخ میں صرف 01 بار ہی اس نایاب فلکیاتی مظہر کی کامیابی سے تصدیق کی جا سکی تھی، جس کے بعد یہ موجودہ دریافت خلائی سائنس کے میدان میں ایک تاریخی اور اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔