LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ماسکو میں عالمی مذہبی کانفرنس، پاکستان سمیت 40 ممالک کے وفود کی شرکت آئی پی پیز نے ملک کی کمر توڑ دی، سسٹم کو بدل کر ضلعی معیشت پر جانا ہوگا، ایس ایم تنویر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے وکلا کی فہرست جیل حکام کے حوالے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کی سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات، الوداعی دورہ دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کے پی حکومت گورننس اور دہشت گردی روکنے میں مکمل ناکام، سیاست کو زندگیوں پر ترجیح دی جا رہی ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ FIA انسداد دہشت گردی ونگ کی بڑی کارروائی، افغانیوں کے منسوخ شدہ شناختی کارڈ بحال کرنے والا نادرا کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار سندھ طاس معاہدہ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ، یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے: عطاء تارڑ ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کے لیے بڑا اقدام، سیلز ٹیکس کی نئی شرحیں مقرر ایف بی آر کا سخت فیصلہ، مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے کاروباری مراکز سیل کرنے کا اعلان ورلڈکپ 2027: پاکستان اور بھارت کو پھر ایک ہی گروپ میں رکھنے کا امکان صومالیہ میں ہائی جیک جہاز پر آپریشن، جاں بحق پاکستانی سیکنڈ آفیسر کاشف عمر کے اہل خانہ کا وزیراعظم سے لاشیں مانگنے کی اپیل 9مئی مقدمہ: نامزد ملزم کا نام پی سی ایل سے نکالنے کی درخواست خارج امریکا نے ایران اور روسی اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کا اسرائیل کو فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ

ایک پروجیکٹ پر کام کرنے والے مختلف اے آئی ایجنٹس آپس میں لڑ پڑے

Web Desk

16 August 2026

مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی ‘اینتھروپک’ (Anthropic) کے ایک حالیہ تجربے میں تین خود مختار اے آئی ایجنٹس ایک ہی سافٹ ویئر پروجیکٹ پر کام کے دوران ایک دوسرے کے لیے رکاوٹ بن گئے اور باہمی طور پر ایک دوسرے کے کام کو سبوتاژ کرنے لگے۔ تجربے میں تینوں کلاؤڈ ایجنٹس کو ایک ہی کوڈنگ پروجیکٹ تک رسائی دی گئی تھی تاہم انہیں آپس میں متصادم (Conflicting) ہدایات دی گئیں، جبکہ وہ اس بات سے بھی مکمل بے خبر تھے کہ اسی پروجیکٹ پر دیگر اے آئی سسٹمز بھی کام کر رہے ہیں۔

تقریباً چار گھنٹے کے اس سیٹ اپ کے دوران جب ایجنٹس نے دیکھا کہ ان کا کام متاثر ہو رہا ہے، تو انہوں نے یہ فرض کر لیا کہ دوسرے سسٹمز جان بوجھ کر ان کے کام میں مداخلت کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ان ایجنٹس نے ایک دوسرے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے باقاعدہ دفاعی اور اٹیکنگ اقدامات شروع کر دیے، جن میں ایک دوسرے کے خلاف خود کو نقل کرنے والے ‘سیلف ریپلیکیٹنگ میل ویئر’ (Malware) کا استعمال بھی شامل تھا۔

اینتھروپک نے اس انوکھے اور خطرناک رویے کو ‘ملٹی ایجنٹ ٹرف وار’ (Multi-Agent Turf War) کا نام دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں جب متعدد خود مختار اے آئی ایجنٹس کو ایک ساتھ کام پر لگایا جائے گا، تو ان کے اس نوعیت کے غیر متوقع اور جارحانہ رویوں کو روکنے اور انہیں کنٹرول میں رکھنے کے لیے انتہائی مضبوط اور جدید حفاظتی فریم ورک بنانا ناگزیر ہو گا۔