LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب نے بھی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا الزام ایران پر عائد کر دیا ائیل ٹینکروں پر حملہ: امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت انتہائی خطرناک قرار دیدی امریکا مذاکرات کو ناکامی کی طرف لے جائے گا: محسن رضائی امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا لائسنس منسوخ کردیا ایران نے آبنائے ہرمز میں قطری جہاز پر حملے کے الزام کو مسترد کر دیا آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، برطانوی میری ٹائم ایجنسی ایران کے خلاف طاقتور حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ ایران میں قشم جزیرے، سیریک، بندر عباس میں دھماکے سنے گئے: ایرانی میڈیا ترکیہ سے پابندیاں ہٹانے جارہے ہیں، ہم دوستوں پر پابندیاں نہیں لگاتے: ڈونلڈ ٹرمپ ایشیا کپ 2027ء کیلئے ڈھاکا سمیت وینیوز زیر غور ہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو طیارہ لاپتا ہوگیا جس کی تلاش شروع کر دی گئی۔ بلاول بھٹو کی گلگت بلتستان کی نومنتخب حکومت کو 100 روزہ ترقیاتی پلان تیار کرنے کی ہدایت وفاقی وزیر احسن اقبال کا یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو کا دورہ، جناح میڈیکل کمپلیکس اور پی کے ایل آئی کے ساتھ طبی و تحقیقی تعاون پر تبادلہ خیال سندھ میں پاکستان رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع، صوبائی کابینہ نے منظوری دے دی خاتون کی جان بچاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی نمازِ جنازہ ادا، فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک

کچرا چُننے سے کامیاب کاروبار تک، نوجوان کی منفرد کامیابی کی کہانی

Web Desk

21 April 2026

برطانیہ میں مقیم 39 سالہ عامر جارڈن نے “کچرے سے کاروبار” (Trash to Treasure) کا ایک ایسا منفرد ماڈل متعارف کروایا ہے جس نے نہ صرف ان کی زندگی بدل دی بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک مثال قائم کر دی ہے۔ ماضی میں فائر الارم ٹیکنیشن کے طور پر سخت محنت اور مالی دباؤ کا شکار رہنے والے عامر نے 2023 میں تجرباتی طور پر “ڈمپسٹر ڈائیونگ” (پھینکی گئی اشیاء کی تلاش) شروع کی، جو اب ایک باقاعدہ منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو چکی ہے۔ عامر اپنی اہلیہ روتھ کے ہمراہ دکانوں کے باہر پھینکے گئے فرنیچر، الیکٹرانکس اور دیگر سامان کو جمع کرتے ہیں اور معمولی مرمت کے بعد انہیں آن لائن فروخت کر کے سالانہ تقریباً 50 ہزار پاؤنڈ (تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے) کما رہے ہیں۔

عامر جارڈن کا یہ کام محض ذاتی منافع تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک بڑی سماجی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں۔ وہ اپنے کام کے دوران ملنے والی خوردنی اشیاء، کپڑے اور دیگر ضروری سامان مستحق افراد اور فلاحی اداروں کو عطیہ کر دیتے ہیں، جس سے اب تک ہزاروں ضرورت مند مستفید ہو چکے ہیں۔ عامر کے مطابق اس کام نے انہیں سکھایا ہے کہ بہت سی اشیاء جنہیں ہم ‘کچرا’ سمجھ کر پھینک دیتے ہیں، دراصل معمولی توجہ سے دوبارہ کارآمد بنائی جا سکتی ہیں۔ اس طرزِ زندگی نے انہیں مالی استحکام کے ساتھ ساتھ بچت اور وسائل کے بہترین استعمال کا ایک نیا شعور بخشا ہے۔