کچرا چُننے سے کامیاب کاروبار تک، نوجوان کی منفرد کامیابی کی کہانی
Web Desk
21 April 2026
برطانیہ میں مقیم 39 سالہ عامر جارڈن نے “کچرے سے کاروبار” (Trash to Treasure) کا ایک ایسا منفرد ماڈل متعارف کروایا ہے جس نے نہ صرف ان کی زندگی بدل دی بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک مثال قائم کر دی ہے۔ ماضی میں فائر الارم ٹیکنیشن کے طور پر سخت محنت اور مالی دباؤ کا شکار رہنے والے عامر نے 2023 میں تجرباتی طور پر “ڈمپسٹر ڈائیونگ” (پھینکی گئی اشیاء کی تلاش) شروع کی، جو اب ایک باقاعدہ منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو چکی ہے۔ عامر اپنی اہلیہ روتھ کے ہمراہ دکانوں کے باہر پھینکے گئے فرنیچر، الیکٹرانکس اور دیگر سامان کو جمع کرتے ہیں اور معمولی مرمت کے بعد انہیں آن لائن فروخت کر کے سالانہ تقریباً 50 ہزار پاؤنڈ (تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے) کما رہے ہیں۔
عامر جارڈن کا یہ کام محض ذاتی منافع تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک بڑی سماجی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں۔ وہ اپنے کام کے دوران ملنے والی خوردنی اشیاء، کپڑے اور دیگر ضروری سامان مستحق افراد اور فلاحی اداروں کو عطیہ کر دیتے ہیں، جس سے اب تک ہزاروں ضرورت مند مستفید ہو چکے ہیں۔ عامر کے مطابق اس کام نے انہیں سکھایا ہے کہ بہت سی اشیاء جنہیں ہم ‘کچرا’ سمجھ کر پھینک دیتے ہیں، دراصل معمولی توجہ سے دوبارہ کارآمد بنائی جا سکتی ہیں۔ اس طرزِ زندگی نے انہیں مالی استحکام کے ساتھ ساتھ بچت اور وسائل کے بہترین استعمال کا ایک نیا شعور بخشا ہے۔
متعلقہ عنوانات
چوہا قیمتی ہیروں سے مزین زیورات لے اُڑا!
31 July 2026
دنیا کے مہنگے ترین آم، قیمت سیکڑوں ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں روپے میں
31 July 2026
بیٹی کی جنک فوڈ کی عادت چھڑانے کے لیے باپ نے جعلی الٹراساؤنڈ کر ڈالا، پھر کیا ہوا؟
31 July 2026
سابق کپتان وسیم اکرم کا لاپتا پالتو کتا مل گیا
31 July 2026
چین کا شاہکار: 625 میٹر بلندآبشار پُل، سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا
30 July 2026
برطانیہ: 116 سال بعد لائبریری کو کتابیں واپس لوٹا دی گئیں
30 July 2026
4 آم کی قیمت صرف ’’6 لاکھ 12 ہزار روپے‘‘
29 July 2026
بیوی کو تنہا نہ چھوڑنے کیلئے شوہر بھی گہرے مین ہول میں گرگیا
29 July 2026