LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مذاکرات کے لیے وفد اسلام آبادبھیجنے کاابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ایرانی وزارت خارجہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا،ایران کے معاملے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کروں گا، ٹرمپ امریکاوایران جنگ میں توسیع پر غورکریں، سفارتکاری کو موقع دیں، اسحاق ڈار ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کےلیے تصدیق کا انتظارہے، عطاتارڑ پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف

کچرا چُننے سے کامیاب کاروبار تک، نوجوان کی منفرد کامیابی کی کہانی

Web Desk

21 April 2026

برطانیہ میں مقیم 39 سالہ عامر جارڈن نے “کچرے سے کاروبار” (Trash to Treasure) کا ایک ایسا منفرد ماڈل متعارف کروایا ہے جس نے نہ صرف ان کی زندگی بدل دی بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک مثال قائم کر دی ہے۔ ماضی میں فائر الارم ٹیکنیشن کے طور پر سخت محنت اور مالی دباؤ کا شکار رہنے والے عامر نے 2023 میں تجرباتی طور پر “ڈمپسٹر ڈائیونگ” (پھینکی گئی اشیاء کی تلاش) شروع کی، جو اب ایک باقاعدہ منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو چکی ہے۔ عامر اپنی اہلیہ روتھ کے ہمراہ دکانوں کے باہر پھینکے گئے فرنیچر، الیکٹرانکس اور دیگر سامان کو جمع کرتے ہیں اور معمولی مرمت کے بعد انہیں آن لائن فروخت کر کے سالانہ تقریباً 50 ہزار پاؤنڈ (تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے) کما رہے ہیں۔

عامر جارڈن کا یہ کام محض ذاتی منافع تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک بڑی سماجی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں۔ وہ اپنے کام کے دوران ملنے والی خوردنی اشیاء، کپڑے اور دیگر ضروری سامان مستحق افراد اور فلاحی اداروں کو عطیہ کر دیتے ہیں، جس سے اب تک ہزاروں ضرورت مند مستفید ہو چکے ہیں۔ عامر کے مطابق اس کام نے انہیں سکھایا ہے کہ بہت سی اشیاء جنہیں ہم ‘کچرا’ سمجھ کر پھینک دیتے ہیں، دراصل معمولی توجہ سے دوبارہ کارآمد بنائی جا سکتی ہیں۔ اس طرزِ زندگی نے انہیں مالی استحکام کے ساتھ ساتھ بچت اور وسائل کے بہترین استعمال کا ایک نیا شعور بخشا ہے۔