LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں اضافہ، سیلاب، کئی دیہات زیر آب، زمینی رابطہ منقطع امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ایرانی دعویٰ مسترد کر دیا بیلاروس کے وفد کا نیول ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، چیف آف نیول سٹاف سے ملاقات شہدا پر سیاست نا قابل قبول، سیاست کو دہشتگردی سے نہ جوڑا جائے: سرفراز بگٹی کشمیری عوام کے صبر اور برداشت کو سلام پیش کرتا ہوں، تحریک دنیا بھر میں پھیل رہی ہے: مولانا فضل الرحمان امریکا کا چین پر اے آئی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، “ماڈل ڈسٹلیشن” تنازع کیا ہے؟ ایران کا کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: انتخابی مہم کا وقت ختم، دنگل کل سجے گا ارشد ندیم جیولن تھرو فائنل میں میڈل کی دوڑ سے باہر خاتون باکسر فاطمہ زہرہ نے کامن ویلتھ گیمز میں تاریخ رقم کر دی مؤقف پر قائم ہوں، کشمیری مہاجرین کی نشستیں ختم نہیں ہونے دیں گے: خواجہ آصف سعودیہ کا حماس کی تخفیفِ اسلحہ پر آمادگی کا خیرمقدم، ٹرمپ کے کردار کو سراہا حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ امن کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتا ہے، کایا کالاس ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

کچرا چُننے سے کامیاب کاروبار تک، نوجوان کی منفرد کامیابی کی کہانی

Web Desk

21 April 2026

برطانیہ میں مقیم 39 سالہ عامر جارڈن نے “کچرے سے کاروبار” (Trash to Treasure) کا ایک ایسا منفرد ماڈل متعارف کروایا ہے جس نے نہ صرف ان کی زندگی بدل دی بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک مثال قائم کر دی ہے۔ ماضی میں فائر الارم ٹیکنیشن کے طور پر سخت محنت اور مالی دباؤ کا شکار رہنے والے عامر نے 2023 میں تجرباتی طور پر “ڈمپسٹر ڈائیونگ” (پھینکی گئی اشیاء کی تلاش) شروع کی، جو اب ایک باقاعدہ منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو چکی ہے۔ عامر اپنی اہلیہ روتھ کے ہمراہ دکانوں کے باہر پھینکے گئے فرنیچر، الیکٹرانکس اور دیگر سامان کو جمع کرتے ہیں اور معمولی مرمت کے بعد انہیں آن لائن فروخت کر کے سالانہ تقریباً 50 ہزار پاؤنڈ (تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے) کما رہے ہیں۔

عامر جارڈن کا یہ کام محض ذاتی منافع تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک بڑی سماجی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں۔ وہ اپنے کام کے دوران ملنے والی خوردنی اشیاء، کپڑے اور دیگر ضروری سامان مستحق افراد اور فلاحی اداروں کو عطیہ کر دیتے ہیں، جس سے اب تک ہزاروں ضرورت مند مستفید ہو چکے ہیں۔ عامر کے مطابق اس کام نے انہیں سکھایا ہے کہ بہت سی اشیاء جنہیں ہم ‘کچرا’ سمجھ کر پھینک دیتے ہیں، دراصل معمولی توجہ سے دوبارہ کارآمد بنائی جا سکتی ہیں۔ اس طرزِ زندگی نے انہیں مالی استحکام کے ساتھ ساتھ بچت اور وسائل کے بہترین استعمال کا ایک نیا شعور بخشا ہے۔