LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، چین کے دل ایک دوسرے سے جڑے اور ایک ساتھ دھڑکتے ہیں: وزیراعظم ایف بی آر کی انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت، سندھ بہت پیچھے رہ گیا: حافظ نعیم الرحمان آبنائے ہرمز میں 4 تجارتی جہازوں پر حملے، عالمی توانائی بحران کا خدشہ ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا عراق سے امریکی افواج کا انخلا مکمل، کل ’یوم خودمختاری‘ منانے کا اعلان پاکستان کا ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران جانی نقصان پر اظہار تعزیت پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں پارلیمانی امور پر مشاورت، اجلاس میں اہم معاملات زیر غور پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے کرسچن میرج بل 2026 کی منظوری دے دی پاکستان ایس سی او سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کیلئے پرعزم ہے: اسحاق ڈار ماسکو میں عالمی مذہبی کانفرنس، پاکستان سمیت 40 ممالک کے وفود کی شرکت آئی پی پیز نے ملک کی کمر توڑ دی، سسٹم کو بدل کر ضلعی معیشت پر جانا ہوگا، ایس ایم تنویر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے وکلا کی فہرست جیل حکام کے حوالے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کی سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات، الوداعی دورہ دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ

امریکی کوہ پیما نے 101 منزلہ عمارت بغیر حفاظتی آلات سر کرلی

Web Desk

26 January 2026

امریکی کوہ پیما الیکس ہونولڈ نے ایک اور حیران کن کارنامہ انجام دیتے ہوئے بغیر کسی رسی، ہارنس یا حفاظتی آلات کے تائیوان کی مشہور فلک بوس عمارت تائپے 101 کو کامیابی سے سر کر لیا۔

تائپے 101 کا نام اس کی 101 منزلوں کی وجہ سے رکھا گیا ہے، یہ عمارت 508 میٹر (1667 فٹ) بلند ہے اور اسٹیل، شیشے اور کنکریٹ سے تعمیر کی گئی ہے، جبکہ اس کا ڈیزائن بانس کی لکڑی سے مشابہ رکھا گیا ہے۔

الیکس ہونولڈ اس سے قبل بھی دنیا بھر میں اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے والی مہمات کے باعث شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ وہ بغیر کسی حفاظتی سامان کے امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے یوسمائٹ نیشنل پارک میں واقع 915 میٹر بلند گرینائٹ چٹان ایل کیپیٹن کو سر کرنے والے پہلے شخص تھے۔

یہ مہم اصل میں ہفتے کے روز انجام دی جانی تھی تاہم خراب اور نم موسم کے باعث اسے ملتوی کر دیا گیا۔ بعد ازاں یہ مہم تائیوان کے دارالحکومت میں نیٹ فلکس پر براہِ راست نشر کی گئی۔

نیٹ فلکس انتظامیہ کے مطابق کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال کی صورت میں نشریات میں تاخیر رکھی گئی تھی، جبکہ واقعے کی صورت میں لائیو نشریات بند کرنے کا فیصلہ پہلے سے طے تھا۔