LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت جنوبی افریقہ میں فائرنگ، دو سگے بھائیوں سمیت چار پاکستانی جاں بحق یوکرین نے اسرائیل کے کہنے پر ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا: عباس عراقچی بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے ایرانی ایجنڈے کی تکمیل ہیں: یمنی وزیراعظم ٹرمپ نے ایران کو سفارتکاری کا موقع دینے کیلئے حملے روکے: مائیک والٹز اسحاق ڈار سے ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے کا ٹیلی فونک رابطہ، مختلف امور پر تبادلہ خیال حیدرآباد میں بی آئی ایس پی مستحقین سے غیر قانونی کٹوتیوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار یوکرین کو بحیرہ کیسپین میں جہاز پر حملے کا جواب دیا جائے گا: ایران کی دھمکی سویوز ایم ایس-28 خلائی جہاز آئی ایس ایس سے روانہ، تین خلا باز زمین واپسی کے سفر پر آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی: احسن اقبال الیکشن کیلئے 17 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات، انتخابی عمل کا آغاز آج سے ہوگا: چیف سیکرٹری آزاد کشمیر فیروزوالہ میں بند ٹوٹنے سے ایک ہی گھر کے تین بچے پانی میں ڈوب کر جاں بحق

اے آئی ٹوٹی ہڈی کو شناخت کرنے میں ایکسرے سے آگے نکل گئی

Web Desk

27 November 2025

مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے ایک بار پھر حیران کر دیا ہے، برطانوی اسپتالوں میں ایک نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ہڈیوں کے فریکچر کی شناخت تیز تر ہو جائے گی۔

بی بی سی کے مطابق برطانیہ کے شمالی لنکن شائر اور گول این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے اسپتالوں میں اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ہڈیوں کے فریکچر اور ڈِس لوکیشن کی شناخت کی جائزے گی۔ یہ نظام نیشنل ہیلتھ سروسز کی دو سالہ پائلٹ اسکیم کے تحت اس ماہ کے آخر میں فعال ہو جائے گا۔

ٹرسٹ کے ماہرین کے مطابق اے آئی سافٹ ویئر ہر ایکس رے کا فوری تجزیہ کر کے مشتبہ حصوں کو نمایاں کرے گا، جس سے ڈاکٹروں کو تشخیص میں اضافی مدد ملے گی اور ایمرجنسی میں علاج کا عمل تیز ہو سکے گا۔ AI ہر ایکس رے تصویر کا فوراً تجزیہ کر کے مشتبہ حصوں کو ہائی لائٹ کرے گا تاکہ ڈاکٹر آسانی سے دیکھ سکیں، تاہم حتمی تشخیص اور علاج کا فیصلہ ہمیشہ ڈاکٹر ہی کریں گے۔

یہ ٹیکنالوجی دو سال سے کم عمر بچوں، ان پیشنٹ و آؤٹ پیشنٹ کلینکس اور چھاتی، ریڑھ کی ہڈی، کھوپڑی، چہرے اور نرم ٹشوز کی امیجنگ میں استعمال نہیں کی جائے گی