LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع صرف3سے 5روزکےلیے کی، جلد ڈیل چاہتےہیں، امریکی میڈیا اگلے 36سے 72گھنٹوں میں پاکستان میں امریکا ایران مذاکرات ممکن ہیں،ٹرمپ سفارتی میدان میں ہونے والی پیش رفت پر نظررکھے ہوئے ہیں، ایرانی وزارت خارجہ آبنائے ہرمزکے قریب 3بحری جہازوں پر فائرنگ، 2جہازایرانی تحویل میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر کی ملاقات: علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون پر اہم گفتگو برطانیہ کی امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت، اسحاق ڈار اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات حکومت اور آئی ایم ایف میں نئی آٹو پالیسی پر اتفاق، ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ پہلگام واقعہ کے ایک سال بعد بھی بھارت شواہد پیش نہ کر سکا: عطاء اللہ تارڑ ایران جنگ کی مخالفت: ایرانی نژاد امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری کو دھمکیاں زمین کے قدرتی وسائل انسانی زندگی کی بقا کیلئے ناگزیر ہیں: وزیراعظم جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام ایران سے حقائق پر بات کرنے کے بجائے اسے ٹرخایا گیا، دھمکیاں بھی دی گئیں: روس اقوام متحدہ کا جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم، پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا

غصیلے نوجوانوں کو صحت کے کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

Web Desk

9 March 2026

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ غصیلے اور جارحانہ رویہ رکھنے والے نوجوانوں کی حیاتیاتی عمر تیزی سے بڑھ سکتی ہے اور انہیں بعد کی زندگی میں صحت سے متعلق مختلف پیچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

جرنل ہیلتھ سائیکالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق نوجوانوں میں جارحانہ رویہ حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافے اور 30 برس کی عمر تک زیادہ باڈی ماس انڈیکس (BMI) سے تعلق رکھتا ہے۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف ورجینیا میں کی گئی جس میں امریکا کے جنوب مشرقی علاقوں کے شہری اور مضافاتی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 121 مڈل اسکول طلبہ شامل تھے، جن میں 46 لڑکے اور 75 لڑکیاں تھیں۔

محققین نے شرکا کا مشاہدہ 13 برس کی عمر سے جوانی تک کیا۔ اس دوران والدین اور ساتھیوں سے ان کے رویے کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کون سے نوجوان زیادہ جارحانہ مزاج رکھتے ہیں۔

جب شرکا کی عمر 30 برس ہوئی تو سائنس دانوں نے ان کے حیاتیاتی بڑھاپے کا جائزہ لیا۔ اس مقصد کے لیے بلڈ پریشر، جسم میں سوزش، گلوکوز کی سطح، کولیسٹرول اور مدافعتی نظام کی کارکردگی جیسے اہم طبی پیمانوں کو جانچا گیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق کم عمری میں زیادہ غصہ اور جارحیت رکھنے والے افراد میں نہ صرف حیاتیاتی عمر زیادہ تیزی سے بڑھنے کے آثار دیکھے گئے بلکہ ان میں وزن اور صحت کے دیگر مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بھی زیادہ پایا گیا۔