LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر: مشترکہ اعلامیے میں “چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” کے قیام بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج امریکا کو خطے میں مزید اڈے قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پنجاب میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شدید ہیٹ ویو کا خدشہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے مریم نواز کی اے آئی آئی بی کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں شراکت داری کی پیشکش پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ

اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا ختم، علیمہ خان اور متعدد کارکن پولیس کی تحویل میں

Web Desk

18 November 2025

راولپنڈی: اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور ناکے پر جاری دھرنے کے خلاف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سمیت تحریک انصاف کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

اس سے پہلے علیمہ خان نے اڈیالہ روڈ پر احتجاج ختم کرنے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد پولیس کی جانب سے خواتین اہلکاروں کو طلب کیا گیا۔ کارروائی کے دوران پولیس نے مظاہرین کو سڑک سے ہٹایا اور تقریباً 8 سے 10 کارکنوں کو قیدی وین میں منتقل کردیا۔

آپریشن کے دوران عمران خان کی دوسری ہمشیرہ، نورین نیازی، کی طبعیت بھی خراب ہوگئی۔

پولیس نے آج اڈیالہ جیل جانے والا راستہ بند رکھا، جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان سے کسی رہنما یا خاندان کے فرد کی ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ ملاقات نہ ہونے پر علیمہ خان نے دھرنا دیا تھا۔

پولیس نے ان سے راستہ خالی کرنے کی درخواست کی مگر مذاکرات ناکام ہوگئے، جس کے بعد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سڑک پر پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا گیا۔ علیمہ خان نے دھرنا ختم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پولیس نے انہیں بھی تحویل میں لے لیا۔