LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کی آزاد کشمیر میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ثالثی کی پیشکش فیفا ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے ترکیہ کو 2 صفر سے شکست دے دی واشنگٹن میں امریکی لڑاکا طیارہ تباہ، پائلٹ محفوظ رہا امریکا ایران معاہدے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل مزید سستا فٹ بال ورلڈ کپ: قطر اور سوئٹزر لینڈ کا میچ ایک، ایک گول سے برابر ایران سے معاہدہ کل دستخط کے لیے تیار ہے، آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، ایران دھمکیوں، دباؤ اور منفی پروپیگنڈے سے نہیں ڈریں گے، مومنہ اقبال بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، متعدد روزمرہ اشیاء مہنگی ہونے کا امکان صورتحال اچھی نہیں، امتحان سے گزر رہے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور صرف اپنے لیے کھیلنے والوں کی قومی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں، محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے نئے وفاقی بجٹ میں ساڑھے 7 ارب روپے کے قریب رقم مختص برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ وزیراعظم بتائیں عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہورہی؟ خدا کے لیے فوج کے نام پر سیاست بند کریں؛بیرسٹر گوہر بھارتی ایئرفورس کا ایک اور جنگی طیارہ حادثے کا شکار

اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا ختم، علیمہ خان اور متعدد کارکن پولیس کی تحویل میں

Web Desk

18 November 2025

راولپنڈی: اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور ناکے پر جاری دھرنے کے خلاف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سمیت تحریک انصاف کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

اس سے پہلے علیمہ خان نے اڈیالہ روڈ پر احتجاج ختم کرنے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد پولیس کی جانب سے خواتین اہلکاروں کو طلب کیا گیا۔ کارروائی کے دوران پولیس نے مظاہرین کو سڑک سے ہٹایا اور تقریباً 8 سے 10 کارکنوں کو قیدی وین میں منتقل کردیا۔

آپریشن کے دوران عمران خان کی دوسری ہمشیرہ، نورین نیازی، کی طبعیت بھی خراب ہوگئی۔

پولیس نے آج اڈیالہ جیل جانے والا راستہ بند رکھا، جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان سے کسی رہنما یا خاندان کے فرد کی ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ ملاقات نہ ہونے پر علیمہ خان نے دھرنا دیا تھا۔

پولیس نے ان سے راستہ خالی کرنے کی درخواست کی مگر مذاکرات ناکام ہوگئے، جس کے بعد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سڑک پر پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا گیا۔ علیمہ خان نے دھرنا ختم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پولیس نے انہیں بھی تحویل میں لے لیا۔