LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

بچپن میں لاپتہ ہونے والی بچی 42 سال بعد ڈرامائی انداز میں بازیاب

Web Desk

28 December 2025

امریکا میں تین سال کی عمر میں اغوا ہونے والی ایک لڑکی 42 سال سے زائد عرصے بعد بازیاب ہو گئی، تاہم حیران کن انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ وہ تمام عمر خود کو اغوا شدہ ہی نہیں سمجھتی رہی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 1983 میں امریکی ریاست کینٹکی سے تین سالہ بچی شیل میری نیوٹن کے اغوا کی اطلاع سامنے آئی تھی، جس کی عمر اب 46 برس ہو چکی ہے۔ وہ گزشتہ چار دہائیوں تک مختلف ناموں کے تحت زندگی گزارتی رہی اور اسے اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ اس کا نام لاپتا بچوں کے سرکاری ریکارڈ میں شامل ہے۔

حکام کے مطابق شیل کو نومبر 2024 میں پہلی بار اس کی اصل شناخت اور ماضی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کی والدہ ڈیبرا نیوٹن ایف بی آئی کی ’’ٹاپ ایٹ موسٹ وانٹڈ پیرنٹل کڈنیپنگ فجیٹیوز‘‘ کی فہرست میں شامل رہ چکی ہیں۔ 42 سال بعد شیل کی اپنے والد جوزف نیوٹن سے ملاقات ممکن ہو سکی۔

پولیس کے مطابق 1983 میں ڈیبرا نیوٹن نے گھر سے جاتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ جارجیا منتقل ہونے کی تیاری میں پہلے جا رہی ہیں، تاہم بعد ازاں جب جوزف نیوٹن جارجیا پہنچے تو وہاں نہ بیوی موجود تھیں اور نہ ہی بیٹی کا کوئی سراغ ملا۔ 1984 اور 1985 کے درمیان ایک آخری فون کال کے بعد ماں بیٹی مکمل طور پر لاپتا ہو گئیں۔

بچی کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں، مختلف ریاستوں میں پوسٹر آویزاں کیے گئے جبکہ ڈیبرا نیوٹن پر بچی کو غیر قانونی تحویل میں رکھنے کا مقدمہ درج کر کے انہیں ایف بی آئی کی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔

سال 2000 میں کیس بند کر دیا گیا تھا تاہم 2016 میں ایک قریبی عزیز کی درخواست پر تحقیقات دوبارہ شروع ہوئیں اور 2017 میں گرینڈ جیوری نے ڈیبرا نیوٹن پر دوبارہ فردِ جرم عائد کر دی۔

تحقیقات اس وقت فیصلہ کن موڑ پر پہنچیں جب پولیس کو اطلاع ملی کہ ڈیبرا نیوٹن فلوریڈا میں ’شیرون نیلی‘ کے نام سے مقیم ہیں۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا اور بعد ازاں ان کی بیٹی شیل کو تمام حقائق سے آگاہ کیا گیا۔

شیل کے والد جوزف نیوٹن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’میری بیٹی ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہی، اسے گلے لگانا ایسا تھا جیسے میں پہلی بار اسے نوزائیدہ حالت میں دیکھ رہا ہوں، وہ مجھے ایک فرشتے کی مانند محسوس ہوئی۔‘‘

مشیل اور ان کے والد عدالت میں اس وقت موجود تھے جب ڈیبرا نیوٹن پر تحویل میں مداخلت کے سنگین الزامات کی فردِ جرم عائد کی گئی۔ سماعت کے بعد عدالت نے ڈیبرا نیوٹن کو ایک اہلِ خانہ کی جانب سے جمع کرائی گئی ضمانت پر رہا کر دیا۔