LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمان سے جاری مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے: ایران کی تصدیق ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر تیار ہوگیا: اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ایران سے مذاکرات آج دوپہر سے شروع ہوں گے، امریکی صدر یادداشت پر دستخط شوریٰ کونسل کی اجتماعی دانشمندی کا نتیجہ ہے، ایرانی صدر برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین کی ایران کو جنگ میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی قومی سلامتی کے دفاع کیلئے مکمل تیاری موجود ہے، ماجد ابن رضا سعودی، ایرانی، اردنی اور قطری وزرائے خارجہ کا رابطہ، قیامِ امن کے عزم کا اعادہ عمان سے مذاکرات: ایران نے موجودہ جنوبی بحری راستہ ناقابل قبول قرار دیدیا یونان میں جنگلاتی آگ بجھاتے 2 ہیلی کاپٹر ٹکرا گئے، عملے کے 2 افراد ہلاک راولپنڈی سے اڑھائی سالہ بچہ اغوا کر لیا گیا ملک کے سیاسی و معاشی بحرانوں کا حل صرف شفاف انتخابات ہیں: اسد قیصر آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: ن لیگ 10 اور پی پی 2 نشست پر کامیاب سوات میں دہشتگردی ناقابل برداشت، حکومت شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے: حافظ نعیم الرحمان پیپلزپارٹی جمہوری رویہ اپنائے، دھاندلی کا شور بے بنیاد ہے: احسن اقبال سینٹکام کا ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی میں 35 جہازوں کا رخ موڑنے کا دعویٰ

بچپن میں لاپتہ ہونے والی بچی 42 سال بعد ڈرامائی انداز میں بازیاب

Web Desk

28 December 2025

امریکا میں تین سال کی عمر میں اغوا ہونے والی ایک لڑکی 42 سال سے زائد عرصے بعد بازیاب ہو گئی، تاہم حیران کن انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ وہ تمام عمر خود کو اغوا شدہ ہی نہیں سمجھتی رہی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 1983 میں امریکی ریاست کینٹکی سے تین سالہ بچی شیل میری نیوٹن کے اغوا کی اطلاع سامنے آئی تھی، جس کی عمر اب 46 برس ہو چکی ہے۔ وہ گزشتہ چار دہائیوں تک مختلف ناموں کے تحت زندگی گزارتی رہی اور اسے اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ اس کا نام لاپتا بچوں کے سرکاری ریکارڈ میں شامل ہے۔

حکام کے مطابق شیل کو نومبر 2024 میں پہلی بار اس کی اصل شناخت اور ماضی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کی والدہ ڈیبرا نیوٹن ایف بی آئی کی ’’ٹاپ ایٹ موسٹ وانٹڈ پیرنٹل کڈنیپنگ فجیٹیوز‘‘ کی فہرست میں شامل رہ چکی ہیں۔ 42 سال بعد شیل کی اپنے والد جوزف نیوٹن سے ملاقات ممکن ہو سکی۔

پولیس کے مطابق 1983 میں ڈیبرا نیوٹن نے گھر سے جاتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ جارجیا منتقل ہونے کی تیاری میں پہلے جا رہی ہیں، تاہم بعد ازاں جب جوزف نیوٹن جارجیا پہنچے تو وہاں نہ بیوی موجود تھیں اور نہ ہی بیٹی کا کوئی سراغ ملا۔ 1984 اور 1985 کے درمیان ایک آخری فون کال کے بعد ماں بیٹی مکمل طور پر لاپتا ہو گئیں۔

بچی کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں، مختلف ریاستوں میں پوسٹر آویزاں کیے گئے جبکہ ڈیبرا نیوٹن پر بچی کو غیر قانونی تحویل میں رکھنے کا مقدمہ درج کر کے انہیں ایف بی آئی کی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔

سال 2000 میں کیس بند کر دیا گیا تھا تاہم 2016 میں ایک قریبی عزیز کی درخواست پر تحقیقات دوبارہ شروع ہوئیں اور 2017 میں گرینڈ جیوری نے ڈیبرا نیوٹن پر دوبارہ فردِ جرم عائد کر دی۔

تحقیقات اس وقت فیصلہ کن موڑ پر پہنچیں جب پولیس کو اطلاع ملی کہ ڈیبرا نیوٹن فلوریڈا میں ’شیرون نیلی‘ کے نام سے مقیم ہیں۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا اور بعد ازاں ان کی بیٹی شیل کو تمام حقائق سے آگاہ کیا گیا۔

شیل کے والد جوزف نیوٹن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’میری بیٹی ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہی، اسے گلے لگانا ایسا تھا جیسے میں پہلی بار اسے نوزائیدہ حالت میں دیکھ رہا ہوں، وہ مجھے ایک فرشتے کی مانند محسوس ہوئی۔‘‘

مشیل اور ان کے والد عدالت میں اس وقت موجود تھے جب ڈیبرا نیوٹن پر تحویل میں مداخلت کے سنگین الزامات کی فردِ جرم عائد کی گئی۔ سماعت کے بعد عدالت نے ڈیبرا نیوٹن کو ایک اہلِ خانہ کی جانب سے جمع کرائی گئی ضمانت پر رہا کر دیا۔