LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈونلڈ ٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی فیفا ورلڈکپ2026 : کوارٹر فائنل لائن اپ مکمل ہوگئی تیل فروخت کا ایرانی لائسنس منسوخ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے ٹو ایئرویز طیارہ حادثہ: تلاش کے لیے بحری و فضائی آپریشن تیز، کراچی میں ایئرلائن کے دفاتر سیل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی سری لنکن ہم منصب سے ملاقات، انسداد منشیات اور پولیس ٹریننگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق پاسداران انقلاب کا 85 امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ غنڈہ گردی اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا، جھکیں گے نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ تیل فروخت کا ایرانی لائسنس منسوخ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ پاسداران انقلاب کا امریکی حملوں کا تباہ کن جواب دینے کا اعلان امریکا کے ایران پر حملہ کے بعد اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری امریکہ: ہیوسٹن میں امیگریشن حکام کی فائرنگ، گاڑی افسر پر چڑھانے کی کوشش کرنے والا ملزم ہلاک معاہدۂ جنگ بندی خطرے میں: امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے، مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ جنگ کا خدشہ پاکستان کے لیے عالمی اعزاز: پاکستانی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عائشہ میاں بین الاقوامی تنظیم کی صدر منتخب امریکہ کا ایران پر باقاعدہ فوجی حملہ، متعدد شہر دھماکوں سے گونج اٹھے، عالمی منڈی میں تیل مہنگا حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی اور میزائل نظام کو نشانہ بنایا گیا، امریکی حکام

واٹس ایپ صارفین خبردار: وارننگ اور حفاظتی اقدامات جاری

Web Desk

5 January 2026

واٹس ایپ صارفین کو ایک نئے اور خطرناک سائبر فراڈ ’’گوسٹ پیئرنگ‘‘ سے خبردار کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے ہیکرز بغیر کسی سیکیورٹی سسٹم کو توڑے صارفین کے واٹس ایپ اکاؤنٹس تک خاموشی سے رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ہیکرز واٹس ایپ کی Linked Devices (منسلک ڈیوائسز) کی سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے صارف کے اکاؤنٹ کو اپنے آلے سے جوڑ لیتے ہیں۔ اس طریقۂ واردات کے بعد ہیکرز کو صارف کے پیغامات، تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس تک مکمل رسائی حاصل ہو جاتی ہے، جبکہ متاثرہ صارف کو اکثر کسی غیر معمولی سرگرمی کا فوری علم نہیں ہو پاتا۔

فراڈ کا طریقہ کار
ماہرین کے مطابق ہیکرز عموماً صارف کو ایک جعلی لنک ارسال کرتے ہیں جو کسی معروف ویب سائٹ سے مشابہ ہوتا ہے۔ جیسے ہی صارف اس لنک پر جا کر اپنا موبائل نمبر اور واٹس ایپ کا تصدیقی کوڈ درج کرتا ہے، درحقیقت وہ اپنا اکاؤنٹ ہیکر کی ڈیوائس سے منسلک کر دیتا ہے، جس کے بعد ہیکر اکاؤنٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتا ہے۔

اکاؤنٹ ہیک ہونے کے بعد ممکنہ خطرات

  • نجی پیغامات تک غیر مجاز رسائی

  • تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس کی ڈاؤن لوڈنگ

  • صارف کی شناخت سے پیغامات ارسال کرنا

  • فراڈ اور اسکیمز کو صارف کے رابطوں تک پھیلانا

واٹس ایپ اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کیلئے احتیاطی تدابیر
منسلک ڈیوائسز کی باقاعدہ جانچ: واٹس ایپ سیٹنگز میں جا کر Linked Devices چیک کریں اور کسی بھی مشکوک یا نامعلوم ڈیوائس کو فوراً لاگ آؤٹ کریں۔
دو مرحلوں کی تصدیق (Two-Step Verification) فعال کریں: چھ ہندسوں کا سیکیورٹی پن غیر مجاز رسائی کو مشکل بنا دیتا ہے۔
مشکوک لنکس سے گریز: کسی بھی نامعلوم یا غیر مصدقہ لنک پر اپنا موبائل نمبر، تصدیقی کوڈ یا کیو آر کوڈ ہرگز درج نہ کریں، خواہ پیغام کسی جاننے والے کے نام سے ہی کیوں نہ موصول ہوا ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو ہر قسم کی تصدیقی کوڈ یا کیو آر اسکین کی درخواست پر غیر معمولی احتیاط برتنی چاہیے اور واٹس ایپ کی دستیاب حفاظتی خصوصیات کو فعال رکھنا چاہیے تاکہ اس نوعیت کے جدید سائبر فراڈ اور ہائی جیکنگ سے محفوظ رہا جا سکے