LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

سانس لینے میں دشواری، چھٹی مانگنے پر باس نے ملازم کو کیا کہا؟

Web Desk

28 December 2025

بھارت میں ایک سوشل میڈیا صارف نے کام کی جگہ پر غیر انسانی رویے سے متعلق واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شدید صحت کے مسائل کے باوجود اس کی باس نے چھٹی یا کسی بھی قسم کا ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔

صارف کے مطابق دفاتر میں بیماری کی بنیاد پر چھٹی لینا ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر جب مسئلہ سنگین ہو، تاہم اسے سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا، اس کے باوجود کام کی ڈیڈ لائن کو ترجیح دی گئی۔

متاثرہ صارف نے بتایا کہ وہ سانس نہیں لے پا رہا تھا اور دفتر بند ہونے میں صرف پانچ منٹ باقی تھے، اسی دوران ایک ساتھی آیا اور کہا کہ ڈیڈ لائن مکمل کرنا ضروری ہے۔ صارف کا کہنا تھا کہ اس نے کولیگ کو اپنی حالت سے آگاہ کرتے ہوئے ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت پر زور دیا، مگر اس کی بات نظر انداز کر دی گئی اور اسے باس سے بات کرنے کا کہا گیا۔

صارف کے مطابق جب اس نے باس کو اپنی حالت بتائی تو جواب ملا کہ وقت کم ہے، کچھ دیر آرام کرو اور کام اگلی صبح مکمل کر لینا۔

واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے صارف نے کہا کہ بعض اوقات باسز یہ بھول جاتے ہیں کہ دفتر میں کام کرنے والے لوگ بھی انسان ہوتے ہیں، مشینیں نہیں۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد کام کی جگہ پر ذہنی دباؤ اور ملازمین کی صحت سے متعلق رویوں پر بحث شروع ہو گئی ہے۔