LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیول سبسڈی سے ڈیڑھ کروڑ افراد مستفید، عوام پر توانائی کا بوجھ نہیں ڈالا: وزیراعظم امریکی مڈٹرم انتخابات: متعدد پاکستانی امریکن امیدوار بھی ریاستی انتخابات میں کامیاب امریکی وسط مدتی انتخابات واشنگٹن کا داخلی معاملہ ہے: چین 190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور اہلیہ کی اپیلیں 10 نومبر کو سماعت کیلئے مقرر الینوائے میں ڈیموکریٹ امیدوار نبیلہ سید نے ری پبلکن کے ڈاربی ہلز کو شکست دیدی ٹرمپ کی شدید مخالفت کے باوجود مشی گن سے عبدل السید مسلم سینیٹر منتخب وسط مدتی انتخابات کیلئے ایلون مسک کی بھاری مالی معاؤنت بھی کام نہ آئی عوام نے تقسیم کے بجائے اتحاد کی سیاست کا پیغام دیا: باراک اوباما امریکی عوام نے جنگ کے خلاف فیصلہ دے دیا: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کا سامنا، ڈیموکریٹ پارٹی واضح اکثریت سے کامیابی کی جانب گامزن بریت کے باوجود پولیس بھرتی سے نااہلی غیر قانونی قرار، 6 اہم اصول طے وزیراعظم آزاد کشمیر کا راولاکوٹ میں امن و امان اور انتظامی امور کا جائزہ مڈٹرم الیکشن کے نتائج قبول، ایران جنگ اور مہنگائی ریپبلکنز کی شکست کی وجہ بنی: ٹرمپ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کا مثبت رحجان ایران پر حملے کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں: امریکی صدر ٹرمپ

غیر قانونی بھرتیاں؛ مولانا فضل الرحمن کے بیٹے کے گرد گھیرا تنگ، نیب اور ایف آئی اے متحرک

Web Desk

4 November 2026

نیب راولپنڈی اور ایف آئی اے نے پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ طور پر ہزاروں غیر قانونی بھرتیوں اور ضوابط کی خلاف ورزی کے معاملے پر سابق وفاقی وزیر مواصلات اور مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود کو طلب کر لیا ہے۔ نیب نوٹس کے مطابق اسعد محمود کو 10 نومبر 2026ء کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تحقیقاتی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے صرف 3,938 اسامیوں کی اجازت کے باوجود 4,252 افراد کو بھرتی کیا گیا، جبکہ 2,646 ختم شدہ اسامیوں پر بھی خلافِ ضابطہ تقرریاں عمل میں لائی گئیں۔ نیب اور ایف آئی اے کنٹریکٹ ٹیسٹنگ ایجنسی کی سفارشات کو نظرانداز کر کے کی گئی مستقل برتیوں، بوگس دستاویزات، زائد العمر امیدواروں اور ڈومیسائل کوٹے کی خلاف ورزیوں سمیت سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کی جانے والی تقرریوں کی باریک بینی سے تحقیقات کر رہے ہیں۔