وسط مدتی انتخابات کیلئے ایلون مسک کی بھاری مالی معاؤنت بھی کام نہ آئی
Web Desk
4 November 2026
دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی جانب سے امریکی وسط مدتی انتخابات میں کی جانے والی کروڑوں ڈالر کی مالی معاونت خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایلون مسک نے انتخابی مہمات پر مجموعی طور پر 44 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی، جس کا بڑا حصہ ریپبلکن امیدواروں اور انتخابی کمیٹیوں کو فراہم کیا گیا۔ انہوں نے اپنی کمپنیوں سپیس ایکس اور ٹیسلا کے مرکز ٹیکساس کو انتخابی سرمایہ کاری کا مرکزی میدان بنایا، جہاں صرف ایک ڈیموکریٹک امیدوار کے خلاف انتخابی سرگرمیوں پر 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر اور ستمبر کے مہینے میں ریپبلکن سینیٹ کمیٹی کو 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دیے۔ ایلون مسک نے ٹیکساس میں کل 22 کروڑ 40 لاکھ ڈالر نچھاور کیے، تاہم اس بے مثال مالی امداد کے باوجود وہ ریپبلکنز کو درکار انتخابی کامیابی دلوانے میں ناکام رہے۔
متعلقہ عنوانات
غزہ میں زخمی فلسطینیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر آدم حموی کانگریس کے رکن منتخب
4 November 2026
الینوائے میں ڈیموکریٹ امیدوار نبیلہ سید نے ری پبلکن کے ڈاربی ہلز کو شکست دیدی
4 November 2026
ٹرمپ کی شدید مخالفت کے باوجود مشی گن سے عبدل السید مسلم سینیٹر منتخب
4 November 2026
عوام نے تقسیم کے بجائے اتحاد کی سیاست کا پیغام دیا: باراک اوباما
4 November 2026
امریکی عوام نے جنگ کے خلاف فیصلہ دے دیا: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
4 November 2026
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کا سامنا، ڈیموکریٹ پارٹی واضح اکثریت سے کامیابی کی جانب گامزن
4 November 2026
بریت کے باوجود پولیس بھرتی سے نااہلی غیر قانونی قرار، 6 اہم اصول طے
4 November 2026
وزیراعظم آزاد کشمیر کا راولاکوٹ میں امن و امان اور انتظامی امور کا جائزہ
4 November 2026