LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

آئن سٹائن کا نایاب خط: محبت میں گرفتار ہونے کا الزام کششِ ثقل کو نہ دیں

Web Desk

5 October 2026

جولائی 1933ء میں امریکی صحافی فرینک وول کو شہرۂ آفاق ماہرِ طبیعیات البرٹ آئن سٹائن کی جانب سے تحریر کردہ ایک دلچسپ اور تاریخی خط موصول ہوا، جو محبت اور قانونِ کششِ ثقل (Gravity) کے باہمی تعلق کے بارے میں پوچھے گئے ایک عجیب و غریب سوال کے جواب میں لکھا گیا تھا۔ ‘سائیکالوجی ٹوڈے’ کی رپورٹ کے مطابق ‘لانگ آئی لینڈ ڈیلی اسٹار’ کے نمائندے فرینک وول نے بیلجیئم میں قیام کے دوران آئن سٹائن کو خط لکھ کر پوچھا تھا کہ کیا انسان کا محبت میں گرفتار ہونا یا نادانیاں کرنا زمین کی کششِ ثقل کے باعث اس کے سطحِ زمین پر کھڑے ہونے کے انداز سے جڑا ہوا ہے؟

نظریۂ اضافیت کے خالق البرٹ آئن سٹائن نے اس سوال کا نہایت ظریفانہ اور دانشمندانہ جواب دیتے ہوئے تحریر کیا: “محبت میں گرفتار ہونا ہرگز انسان کی جانب سے کی جانے والی سب سے بڑی حماقت نہیں، لیکن اس کی ذمہ داری کششِ ثقل (گرئیوٹی) پر عائد نہیں کی جا سکتی۔” آئن سٹائن کے اس ایک جملے نے طبیعیات کے قوانین اور انسانی جذبات کی پیچیدگی کے درمیان فرق کو واضح کر دیا اور یہ ان کا مشہور ترین اقتباس بن گیا۔ یہ خط ایک ایسے دور میں سامنے آیا تھا جب پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے درمیانی عرصے میں امریکا میں روایتی خاندانی اقدار کے مقابلے میں رومانوی محبت اور جذباتی تعلقات پر شدید سماجی و ثقافتی بحث جاری تھی۔