LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستانی شہریوں کے قتل پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، باضابطہ احتجاج ایف سی بلوچستان کے درجنوں میڈیکل کیمپس، ہزاروں مریضوں کا مفت علاج خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں 4 ارب 29 کروڑ روپے کی گیس چوری دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت خیبر پختونخوا حکومت نے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی کا منصوبہ بنا لیا: خواجہ آصف فرانس میں طلبہ کا احتجاج، پولیس سے جھڑپیں، 1,747 افراد گرفتار حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا، حتمی فیصلے متوقع جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن آئل ٹینکر پر میزائل حملہ پاکستان کا غزہ میں عالمی قانون کی پاسداری یقینی بنانے، کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ اب تحمل کی پالیسی مزید برقرار نہیں رکھی جا سکتی، شہزادہ ترکی الفیصل اسلام آباد میں کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سپیکر پنجاب اسمبلی سسٹم ری سیٹ ہونے والا ہے، چیزیں بہت بہتر ہو جائیں گی: محسن نقوی

مدینہ منورہ پر حملہ عالم اسلام کے دل اور عقیدے پر حملہ ہے، مسلم حکمران مصلحتیں بالائے طاق رکھ کر مضبوط اتحاد قائم کریں: مولانا فضل الرحمان

Web Desk

2 October 2026

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مدینہ منورہ پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن و سلامتی کے علمبردار سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر پر حملہ سفاکیت کی انتہا ہے جو دراصل کسی ایک شہر پر نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے دل اور عقیدے پر حملہ ہے۔ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان، ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم کے مقدس شہر کی حرمت اور تحفظ کے لیے اپنی جان، مال اور اولاد کی قربانی کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے زور دیا کہ مسلم حکمران اور امتِ مسلمہ مصلحتیں بالائے طاق رکھ کر حملہ آوروں کا مقابلہ کریں اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اب ایک مؤثر اسلامی بلاک کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔