LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران رویہ بدلے تو مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے: مائیک والٹز علیمہ کے بعد نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی 30 روز کیلئے نظر بند اسلام آباد سومنات نہ جنید اکبر ہی محمود غزنوی، وفاق اپنا دفاع کرے گا: خواجہ آصف وزیراعظم جنرل اسمبلی میں کشمیر، فلسطین کے مسائل اٹھائیں گے: عاصم افتخار بلوچستان کے ضلع خضدار میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.5 ریکارڈ امریکا نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی یقین دہانی کرائی ہے: قطر پائیدار امن کیلئے تشدد، نفرت اور انتہا پسندی کا خاتمہ ناگزیر ہے: مریم نواز شریف ہنگو میں شہید ہونے والے فوجی افسروں اور جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا مصر، سوڈان اور اعلیٰ امریکی حکام کے سوڈان جنگ کے خاتمے کیلئے اہم مذاکرات ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی عدالت کے خلاف مزید سخت اقدامات کی تیاری کر لی نیویارک دورے کے دوران صدر ٹرمپ کی میئر زہران ممدانی سے ملاقات متوقع کیف پر روسی ڈرون حملوں میں 3 بچوں سمیت 4 افراد ہلاک عباس عراقچی تہران سے نیویارک روانہ، قطر میں مختصر قیام جرمن انتخابات: اے ایف ڈی سب سے آگے، وزیراعظم مرز نے نتیجہ تباہ کن قرار دیدیا آبنائے ہرمز بحران سے قطر انرجی کے منصوبوں میں تاخیر کا خدشہ

مقبرہ جہانگیر تا نور جہاں: شاہدرہ کمپلیکس کی بحالی کا تاریخی منصوبہ، عالمی ثقافتی ورثہ بننے کی راہ ہموار

Web Desk

16 December 2025

لاہور کے مضافات میں دریائے راوی کے کنارے واقع مغلیہ دور کا عظیم الشان شاہدرہ کمپلیکس ایک بار پھر قومی اور عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے اس تاریخی ورثے کی بحالی کے لیے ایک جامع منصوبہ شروع کر دیا ہے، جسے ماہرین پاکستان کو عالمی ثقافتی نقشے پر نمایاں کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔

والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل، نجم الثاقب نے تصدیق کی ہے کہ طویل عرصے کی بے توجہی کے بعد حکومتِ پنجاب نے اس ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ ان کے مطابق شاہدرہ کمپلیکس کئی برسوں تک اطراف میں تجاوزات اور ناقص رسائی کے باعث نظر انداز رہا، جس کی وجہ سے اس کی اصل تاریخی شناخت دھندلا گئی تھی۔

نجم الثاقب نے وضاحت کی کہ شاہدرہ کمپلیکس دراصل چار اہم یادگاروں کا ایک مربوط مجموعہ تھا، جس میں مقبرہ جہانگیر، اکبری سرائے، مقبرہ آصف خان اور مقبرہ نور جہاں شامل تھے۔ تاہم، ریلوے لائن بچھنے کے بعد مقبرہ نور جہاں دیگر حصوں سے الگ ہو گیا۔ ان کے مطابق، اکبری سرائے سب سے پہلے تعمیر ہوا تھا اور شاہراہِ ریشم سے آنے والے تاجروں کے لیے ایک اہم قیام گاہ اور تجارتی مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔

بحالی کے موجودہ مرحلے کے بارے میں ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ اکبری سرائے کے 180 کمروں کی مرمت، نیا لائٹنگ سسٹم اور ٹرانسفارمرز نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ سیاح رات کے اوقات میں بھی اس تاریخی مقام کا دورہ کر سکیں۔ مقبرہ آصف خان اور مقبرہ جہانگیر کے اطراف میں واک ویز، لانز اور پویلینز کی بحالی کا کام بھی جاری ہے۔ نجم الثاقب نے بتایا کہ مقبرہ جہانگیر کی چھت سے پانی ٹپکنے کا سنگین مسئلہ حل کر لیا گیا ہے اور امید ظاہر کی کہ یہ مکمل منصوبہ اگلے ڈھائی سے تین برسوں میں مکمل ہو جائے گا۔

شاہدرہ کمپلیکس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ماہرِ آثارِ قدیمہ، نعیم اقبال، نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت چاروں یادگاروں پر بیک وقت کام جاری ہے۔ ابتدائی طور پر عمارتوں کی ساختی مضبوطی کو یقینی بنایا گیا، اور اب فریسکو پینٹنگز اور تزئین و آرائش کا حساس مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے لیے 50 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

نعیم اقبال نے مقبرہ آصف خان کے گنبد کے حوالے سے تاریخی حقائق کا ذکر کیا کہ اگرچہ شواہد بتاتے ہیں کہ اس پر سفید سنگِ مرمر اور نیچے سرخ پتھر استعمال ہوا تھا، مگر مکمل ڈیزائن کی عدم دستیابی کی وجہ سے عالمی اصولوں کے تحت اصل شکل کی نقالی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق، بحالی صرف وہاں ہوگی جہاں تاریخی شواہد موجود ہوں گے، جبکہ دیگر جگہوں پر صرف حفاظتی مرمت کو ترجیح دی جائے گی۔

بحالی کا کام شروع ہونے اور کمپلیکس کے نقش و نگار کی خوبصورتی کے سامنے آنے کے بعد سیاحوں کی دلچسپی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کراچی سے آنے والی سیاح عائشہ نے جاری مرمت کو ایک مثبت قدم قرار دیا، جبکہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی تاریخ کی پروفیسر ڈاکٹر کوثر بٹ نے کہا کہ ایسے مقامات تعلیمی اعتبار سے بے حد اہم ہیں اور طلبہ کے لیے تاریخ کو ‘زندہ’ کر دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شاہدرہ کمپلیکس کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل کرانے کی سب سے بڑی رکاوٹ اطراف میں موجود تجاوزات ہیں۔ تاہم، شہریوں کو امید ہے کہ جس طرح حکومتِ پنجاب نے اندرونِ لاہور میں تجاوزات کے خلاف کامیاب اقدامات کیے ہیں، اسی عزم کے ساتھ شاہدرہ کو بھی تجاوزات سے پاک کر کے اسے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرایا جائے گا۔