LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

چین سے ڈائنو سار کی نئی نسل دریافت

Web Desk

23 September 2026

چین کے مغربی صوبے لیاؤننگ کے مشہور تاریخی علاقے جیہول بائیوٹا (Jehol Biota) سے ماہرینِ دیرینات (Paleontologists) نے ایک نو دریافت شدہ ڈائنوسار کیراسارس چینگلینسِس (Kayrasaurus changliensis) کا انتہائی محفوظ شدہ فوسل ڈھانچہ دریافت کیا ہے۔ یہ نئی دریافت تھریزینوسارز (Therizinosaurs) نامی دو ٹانگوں پر چلنے والے نباتات خور ڈائنوسارز کے گروہ سے تعلق رکھتی ہے، جو اپنے غیر معمولی اور لمبے پنجوں کے باعث جانے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ اس خطے سے برآمد ہونے والا اب تک کا سب سے بھاری اور جسامت میں سب سے بڑا تھریزینوسار ثابت ہوا ہے، جس میں ایک تقریباً مکمل کھوپڑی بھی شامل ہے۔

تحقیق کے مطابق، برآمد ہونے والا فوسل ڈھانچہ ایک غیر بالغ ڈائنوسار کا تھا جس کی لمبائی کم از کم 3.6 میٹر (11.8 فٹ) اور وزن 117 سے 274 کلوگرام کے درمیان تھا۔ اس کے نچلے اور اوپری جبڑوں میں بالترتیب 45 اور 32 سے زائد باریک دانت موجود ہیں جو اس گروہ میں دانتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ہاتھ کے پنجے پر خاص ابھری ہوئی دھاری اور لمبی گردن اسے اس خاندان کی دیگر تمام انواع سے ممتاز بناتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بھاری جسامت اور مضبوط ساخت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اپنے دور میں سخت نباتات چبانے پر معاشی و ماحولیاتی غلبہ رکھتا تھا۔