LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سوڈانی وزیر داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق بلاول بھٹو کی لاڑکانہ کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت پاکستان اور روس کے درمیان بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کیخلاف اہم معاہدہ حافظ نعیم الرحمٰن کا کراچی میں گراؤنڈ کا افتتاح، کھلاڑیوں کو تحریک چلانے کا مشورہ روس میں بٹ کوائن سمیت 3 کرپٹو کرنسیوں کی خریداری کی اجازت دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کیلئے 8 اصول طے کر دیئے تاجر برادری کے مطالبے پر جنوری میں مزید مال گاڑیاں چلائیں گے: وزیر ریلوے تھر کے کوئلے کی پیداوار بڑھا کر صنعتی ترقی کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے: شرجیل میمن تنقید کرنا آسان جبکہ عملی طور پر کام کرنا مشکل ہے: بلاول بھٹو سیاست میں ڈائیلاگ ضروری، پہلے پی ٹی آئی خود متحد ہو: فیصل کریم کنڈی امریکا نے ڈیڑھ سال میں مذاکرات کے چاروں ادوار سبوتاژ کیے: باقری کنی تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد ضروری ہے: دفتر خارجہ وزیراعظم کا مجوزہ دورۂ روس، 148 کمپنیوں اور 169 نمائندوں کی فہرست تیار ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے سزا کے خلاف اپیلیں دائر کردیں وزیراعظم نے برآمدات بڑھانے کیلئے ٹی ڈی اے پی کو جدید بنانے کی منظوری دے دی

خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ

Web Desk

6 November 2026

امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) کی مشہور و معروف خلائی دوربین ‘نیل گیہرلز سوئفٹ آبزرویٹری’ (Neil Gehrels Swift Observatory) کا 22 سالہ تاریخی مشن بالآخر اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

امریکی خلائی فورس کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 3 ہزار 200 پاؤنڈ وزنی یہ خلائی دوربین امریکی مشرقی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 39 منٹ پر انڈونیشیا کے اوپر زمین کی فضا میں داخل ہوئی۔ شدید حرارت اور رگڑ کے باعث اس کا بیشتر حصہ فضا ہی میں جل کر تباہ ہو گیا، تاہم ناسا کا اندازہ تھا کہ کسی ٹکڑے کے گراؤنڈ پر لگنے سے کسی شخص کے متاثر ہونے کا امکان 2 ہزار 100 میں سے ایک ہے۔

اس دوربین کو 20 نومبر 2004ء کو فلوریڈا سے ڈیلٹا ٹو راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد کائنات کے طاقتور ترین دھماکوں یعنی ‘گاما رے برسٹس’ (Gamma-ray Bursts) اور بلیک ہولز کا مشاہدہ کرنا تھا۔ گزشتہ چند برسوں میں سورج کی 11 سالہ شمسی چکر کی سرگرمیوں اور کورونا ماس ایجیکشنز کے باعث فضا پھیلنے سے دوربین کا مدار تیزی سے نیچے آتا چلا گیا۔ ناسا نے رواں سال جولائی میں ‘لنک’ (Linc) نامی خلائی جہاز کے ذریعے اسے بچانے کی کوشش کی، تاہم ریسکیو مشن کی ناکامی کے بعد دوربین بتدریج زمین پر آن گری۔