LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا بیرونی قرض ایک دہائی میں دوگنا ہو کر 135.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، چین سب سے بڑا قرض دہندہ بابا گرو نانک کا 557 ویں جنم دن، پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول دی چین میں 13ویں انٹرنیشنل آرمی کیڈٹس ویک، پاکستانی کیڈٹس نے سلور میڈل جیت لیا پنجاب کی عدالتوں میں ڈیڑھ ارب روپے کا جعلی کورٹ فیس ٹکٹس سکینڈل بے نقاب پاکستان اور تاجک افواج کی مشترکہ انسدادِ دہشتگردی مشق دوستی سوئم کامیابی سے مکمل اسلام آباد ایئرپورٹ پر اسٹیٹ لاؤنج کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ایران نے جوہری تنازع پر تجاویز قطر کے توسط سے امریکا کو بھجوا دی امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ ترک پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودیہ کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی بلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل ٹرمپ کی شکست پر رابطے بحال؛ ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے ٹیلیفون پر گفتگو ٹرمپ اور نیتن یاہو کی الیکشن میں شکست پر ایران میں جشن؛ پتلے جلادیے گئے حوثیوں کا جنگ بندی کیلیے سعودیہ سے 51 ارب ڈالر ہرجانہ اور حکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ امریکا اور اسرائیل کا ایران پر مختصر اور شدید حملوں کا منصوبہ تیار ایران کا جوہری پروگرام پر ثالثوں کی تجاویز کا جائزہ، قطر کی سفارتی کوششیں رنگ لانے لگیں: نیویارک ٹائمز

امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ

Web Desk

6 November 2026

دنیا بھر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش جاری ہے، تاہم امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک خلائی ٹیکنالوجی کمپنی ‘ریفلیکٹ آربیٹل’ (Reflect Orbital) نے رات کے وقت زمین پر سورج کی روشنی پہنچانے کا انوکھا اور حیران کن منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت خلا میں بڑے بڑے آئینے نصب کر کے سورج کی روشنی زمین کے مخصوص علاقوں تک منعکس کی جائے گی۔

کمپنی کا مقصد ایسے سیٹلائٹس خلا میں بھیجنا ہے جن پر 18 بائی 18 میٹر کے بڑے آئینے نصب ہوں گے، جو رات کے وقت شمسی توانائی کے منصوبوں، قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں اور ہنگامی امدادی کارروائیوں کے لیے سورج کی روشنی فراہم کریں گے۔ اس مقصد کے لیے کمپنی نے راکٹ ساز ادارے ‘سکائی روٹ ایرو اسپیس’ کے ساتھ دو راکٹ لانچ کرنے کا معاہدہ بھی طے کر لیا ہے۔ منصوبے کی پہلی آزمائش 2027ء کی دوسری سہ ماہی میں ‘ایئرینڈل ون’ (Earendel 1) سیٹلائٹ کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ کمپنی کا طویل المدتی ہدف 2035ء تک خلا میں 50 ہزار سیٹلائٹس کا نیٹ ورک قائم کرنا ہے، جس کی سہولت صارفین کو موبائل ایپ کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔

دوسری جانب، اس منصوبے نے ماہرین فلکیات اور ماحولیاتی کارکنوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ جولائی میں امریکی ریگولیٹری ادارے سے منظوری کے باوجود ماہرین نے فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) سے اس کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔ ‘دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز’ میں شائع تحقیق کے مطابق کمپیوٹر ماڈلز ظاہر کرتے ہیں کہ خلا سے آنے والی روشنی فضا میں پھیل کر آس پاس کے علاقوں میں بھی غیر مطلوبہ روشنی کا باعث بنے گی، جس کے نتیجے میں رات کا قدرتی ماحول، انسانی صحت اور فلکیاتی مشاہدات بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔