LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس، یوکرین جنگ دنیا کیلئے تباہ کن، فوری خاتمہ ضروری ہے: ٹرمپ بانی پی ٹی آئی سے منگل کو وکلا کی ملاقات کا دن، فہرست جیل حکام کو ارسال را، طالبان انٹیلی جنس اور دہشتگرد گروہوں کے مبینہ گٹھ جوڑ کا انکشاف وائٹ ہاؤس میں رسائی پر پابندی، میڈیا اداروں کا عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، وزیراعظم سیاسی کمیٹی بنائیں: سینیٹ اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس لاہور ہائیکورٹ: علیمہ خان کی 3-MPO کے تحت نظر بندی کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر ایم کیو ایم پاکستان کا 27 ستمبر کو پی آئی بی اسٹیڈیم میں جنرل ورکرز اجلاس کا اعلان احتجاج ہمارا حق،27 ستمبر کو پوری قوت کے ساتھ نکلیں گے: سہیل آفریدی امریکا کا ایرانی صدر کی میڈیا ٹیم کو ویزے دینے سے انکار ایران پر حملے کا فیصلہ کن جواب دیں گے: جنرل امیر حاتمی اسلام آباد کنٹینروں سے بھر گیا، کسی کو احتجاج کا حق نہیں دیا جا رہا: مولانا فضل الرحمان محسن نقوی تہران پہنچ گئے، ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں متوقع امریکا ٹیک صنعت کا بڑا شراکت دار، جلد ایپل اور گول بھی پاکستان آرہے ہیں: شزہ فاطمہ دو ماہ میں ترسیلات زر 6.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں: احسن اقبال کا دعویٰ سہیل آفریدی اگر ڈیلیور نہیں کر سکتے تو گھر چلے جائیں: عطا تارڑ

آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے والا بیگ تیار

Web Desk

20 September 2026

افریقی ملک کیمرون سے تعلق رکھنے والی فزکس کی ایک طالبہ نے ایک ایسا غیر معمولی تھرمل ‘کوکنگ بیگ’ تیار کر لیا ہے جو بغیر کسی اضافے کے، محض اپنی حرارت کا استعمال کرتے ہوئے بغیر آگ یا بجلی کے کھانا پکانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ‘ونڈر بیگ’ کے اصول پر کام کرنے والا یہ کوکنگ بیگ ایک خاص کپڑے اور موٹے انسولیٹنگ مٹیریل (جیسے فوم کے ٹکڑوں اور روئی) سے تیار کیا گیا ہے جو سلو کُکر کی طرح عمل کرتا ہے۔ اس کا طریقہ کار انتہائی سادہ ہے؛ ابتدائی طور پر کھانے والی پتیلی کو گیس یا لکڑی کے چولہے پر صرف 5 سے 10 منٹ تک ابالا جاتا ہے، اور جیسے ہی کھانا ابلنے لگے تو پتیلی کو چولہے سے اتار کر فوراً اس انسولیٹڈ بیگ کے اندر بند کر دیا جاتا ہے۔

بیگ کا خاص مٹیریل برتن کی اندرونی گرمی کو باہر نکلنے نہیں دیتا، جس کے باعث اسی محفوظ شدہ تپش سے کھانا بغیر کسی مزید ایندھن یا بجلی کے اگلے 8 سے 12 گھنٹے تک خود ہی آہستہ آہستہ پکتا رہتا ہے۔ یہ اختراع بالخصوص دالیں، چاول اور گوشت گلانے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو رہی ہے۔ طالبہ کی اس شاندار دستی اختراع سے کھانا پکانے کے ایندھن میں 70 فیصد تک کی بچت ہو رہی ہے، جبکہ یہ درختوں کی کٹائی روکنے اور دھویں کے مہلک اثرات سے بچاؤ میں بھی مددگار ہے۔ کیمرون کی مقامی مارکیٹ میں اب تک 2 ہزار سے زائد ایسے کوکنگ بیگز فروخت ہو چکے ہیں۔