LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

مدینہ منورہ میں 11 کروڑ ٹن خام معدنی ذخائر دریافت، یورینیم بھی شامل

Web Desk

15 September 2026

سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ میں تقریباً 11 کروڑ ٹن خام معدنی ذخائر دریافت ہوئے ہیں، جن میں یورینیم کے علاوہ دیگر نایاب اور قیمتی معدنیات شامل ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اور سعودی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقدہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی سالانہ جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس تاریخی اور اہم دریافت کا باقاعدہ اعلان کیا۔

سعودی وزیرِ توانائی نے عالمی برادری کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مدینہ منورہ کے معروف ‘جبل صاید’ پراجیکٹ کے علاقے میں کی جانے والی جدید ارضیاتی تحقیق، سروسنگ اور کھدائی کے نتیجے میں 11 کروڑ ٹن خام معدنی وسائل کے وجود کا حتمی تخمینہ لگایا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان جلی ذخائر میں اقتصادی اور تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم یورینیم کے علاوہ دیگر نایاب زمین میں پائی جانے والی معدنیات (Rare Earth Elements) کے پرچور ذخائر بھی شامل ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نئی اور بڑی دریافت سعودی عرب کے ‘ویژن 2030’ کے تحت کان کنی کے شعبے کو معیشت کا تیسرا بڑا ستون بنانے کے اہداف میں پیش رفت ہے۔ مدینہ منورہ کے خطے میں یورینیم اور صنعتی نایاب معدنیات کی دریافت سے نہ صرف مملکت کے معاشی تنوع اور توانائی کے شعبے کو تقویت ملے گی، بلکہ عالمی معدنی مارکیٹ اور صنعت میں بھی سعودی عرب کی سٹریٹجک اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔