LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

اپوزیشن کمیٹی میں متفق تھی، ایوان میں ڈرامے بازی کی: سندھ اسمبلی میں بلدیاتی ترامیم پر صوبائی وزیر ضیاء الحسن لنجار کی گفتگو

Web Desk

14 September 2026

سندھ کے وزیر قانون و داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے سندھ اسمبلی میں بلدیاتی ترمیمی ایکٹ پر اپوزیشن کے احتجاج کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل باقاعدہ ایجنڈے کا حصہ تھا اور اس پر غور کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی گئی تھی، جس میں ایم کیو ایم، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے اراکین کو شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بل کی ہر ایک شق پر کمیٹی کے اندر تفصیلی اور سیر حاصل بحث ہوئی، جہاں اپوزیشن نے اپنی ترامیم اور تجاویز پیش کیں جنہیں حکومت نے تسلیم بھی کیا۔ اگر انہیں بل پر کوئی واقعی اعتراض تھا تو وہ ایوان میں ہنگامہ آرائی کے بجائے بائیکاٹ کر سکتے تھے یا کمیٹی ہی میں اسے رد کرتے۔

صوبائی وزیر نے بل کی اہم ترامیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے سے 120 دن قبل سندھ حکومت الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر آگاہ کرے گی تاکہ بروقت انتخابات کی تیاریاں شروع کی جا سکیں۔ الیکشن کا شیڈول جاری ہوتے ہی منتخب نمائندوں کے اختیارات سیز ہو کر الیکشن کمیشن اور آر اوز کو منتقل ہو جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کی تجویز 90 دن کی تھی جس پر اتفاق رائے سے 120 دن کی مدت طے کی گئی۔ اس کے علاوہ بل کے تحت ڈپٹی میئر اور وائس چیئرمین کو کنوینر کا درجہ دیا گیا ہے، جبکہ صوبائی فنانس کمیشن کے قیام اور ڈرافٹ کی تمام ترامیم پر بھی اتفاق ہوا تھا۔

ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں میں تو بلدیاتی الیکشن ہی نہیں ہو رہے جبکہ سندھ حکومت جمہوری تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے بروقت الیکشن کی خواہش مند ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایچ اے سمیت تمام علاقوں میں ہمارے ہی شہری آباد ہیں جن کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ انہوں نے کمیشن کے سربراہ کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے، حکومت اس پر من و عن عملدرآمد یقینی بنائے گی۔