LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم آزادکشمیرکی فوڈ اتھارٹی کو کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات کا حکم درجہ حرارت میں اضافے کا امکان، متعلقہ ادارے الرٹ رہیں: این ڈی ایم اے گورنر پنجاب نے سیلاب متاثرین میں 26 گھروں کی چابیاں تقسیم کردیں پاکستان کی سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت ایرانی صدر کا جارح قوتوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان شہباز شریف سے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 میں ترمیم منظور، ججز کے تبادلوں کی راہ ہموار قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کر دیا حوثیوں کے حملے قابلِ مذمت، پاکستان سعودیہ کی حمایت جاری رکھے گا: وزیراعظم سندھ اسمبلی: جماعت اسلامی کی لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد منظور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ؛ پاکستانی ٹیک سیکٹر کی عالمی منڈیوں تک رسائی ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ

میشا شفیع کی 50 لاکھ روپے کیش بطور شورٹی جمع کروانے کی درخواست پر نوٹس

Web Desk

8 September 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے معروف گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع کی جانب سے 50 لاکھ روپے نقد بطور زامن (شورٹی) جمع کروانے کی متفرق درخواست پر باضابطہ نوٹسز جاری کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے۔

جسٹس احمد ندیم ارشد کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے میشا شفیع کی متفرق درخواست پر سماعت کی۔ اس سے قبل عدالت عالیہ نے اداکارہ کو 25 لاکھ روپے نقد اور 25 لاکھ روپے کا مچلکہ (شورٹی بانڈ) جمع کروانے کی ہدایت کی تھی، تاہم اداکارہ نے عدالتی حکم کی تعمیل میں مچلکے کے بجائے تمام 50 لاکھ روپے کی رقم نقد جمع کروانے کی اجازت کے لیے متفرق درخواست دائر کی ہے۔

واضح رہے کہ سیشن کورٹ لاہور نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر ہتکِ عزت کے دعوے پر میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف اداکارہ نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے پر حکمِ امتناعی (سٹے آرڈر) جاری کر رکھا ہے۔