اقوام متحدہ نے مصنوعی ذہانت انسانیت کیلئے خطرناک قرار دیدی
Web Desk
8 September 2026
جنیوا: اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے وجود اور بنیادی حقوق کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وولکر ترک نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں محض چند بااثر افراد اور اداروں کے پاس مصنوعی ذہانت پر تقریباً لامحدود طاقت مرکوز ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے، عالمی برادری بالخصوص اے آئی ٹیکنالوجی کی تیاری اور سپلائی چین میں شامل ممالک کو ایسی مضبوط، واضح اور ناقابلِ سمجھوتہ قانونی و اخلاقی حدود متعین کرنی چاہئیں جن کی خلاف ورزی کسی صورت ممکن نہ ہو۔
یو این ہائی کمشنر نے مزید کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز بنانے والی تمام عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیتے رہیں گے کہ وہ اس کے منفی اثرات اور خطرات کو کم سے کم کرنے کے لیے جوابدہی کا مؤثر نظام قائم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ترین اے آئی الگورتھمز اور آلات کی تیاری میں عالمی انسانی حقوق کے تحفظ اور اخلاقی ضوابط کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنانا ہو گا۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026