LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ اسمبلی: جماعت اسلامی کی لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد منظور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ؛ پاکستانی ٹیک سیکٹر کی عالمی منڈیوں تک رسائی ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ اسلام آباد کو خودمختار یونٹ بنانے پر نیا ٹیکس لگانے کی تجاویز تیار یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی شہروں پر حملے، 73 افراد زخمی ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر نان اسٹاپ اے آئی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کر ڈالیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین ایرانی جوہری تنصیبات تک آئی اے ای اے کو رسائی کے مثبت اثرات ہونگے: رافیل گروسی جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، 3 روز میں 27 افراد جاں بحق، 69 زخمی صدرٹرمپ کی کینیڈین کمپنی بمبار ڈیئر کو طیاروں کی فروخت روکنے کی دھمکی آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر طالبات کے سکارف پہننے پر پابندی کا قانون نافذ ایران کا امریکی اور اسرائیلی حملوں میں خارگ جزیرے کو 550 مرتبہ نشانہ بنانے کا اعتراف

سول ہسپتال مٹھی میں 8 ماہ میں 480 نوزائیدہ بچے جاں بحق

Web Desk

8 September 2026

سندھ کے صحرائی ضلع تھرپارکر کے ہیڈکوارٹر مٹھی میں واقع سول ہسپتال میں رواں سال کے پہلے 8 مہینوں کے دوران غذائی قلت، پیدائشی طور پر کم وزن اور دیگر وبائی بیماریوں کے باعث 480 نوزائیدہ بچے جاں بحق ہو گئے۔ ہسپتال کے باضابطہ ریکارڈ کے مطابق جنوری سے اگست 2026ء تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں 2,732 بچوں کو داخل کیا گیا۔ ماہانہ اموات کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں 70، فروری میں 39، مارچ میں 54، اپریل میں 47، مئی میں 65، جون میں 75، جولائی میں 69 اور اگست کے مہینے میں 61 نوزائیدہ بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔

سرکاری دستاویزات سے مزید انکشاف ہوا ہے کہ اسی 8 ماہ کے عرصے کے دوران 1,387 بچوں کو علاج کے بعد صحت یاب ہونے پر ڈسچارج کیا گیا، جبکہ 106 بچوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں حیدرآباد اور کراچی کے بڑے ہسپتالوں میں ریفر کیا گیا۔ واضح رہے کہ تھرپارکر میں بچوں کی مسلسل اموات کے پیچھے ماؤں میں شدید غذائی قلت، کم عمری کی شادیاں اور بنیادی طبی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے سنگین عوامل شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بھیانک صورتحال پر سول ہسپتال مٹھی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) نے حقائق فراہم کرنے سے گریز کیا اور ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے رہے، جو علاقے میں ہیلتھ کیئر کے بگڑتے ہوئے نظام کو بے نقاب کرتا ہے