LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

یادداشت کی کمزوری توقع سے پہلے شروع ہو جاتی ہے: تحقیق

Web Desk

7 September 2026

نیویارک: یادداشت میں کمی اور بھولنے کے عارضے کو عموماً بڑھاپے سے منسوب کیا جاتا ہے، تاہم امریکہ کی بِنگہیمٹن یونیورسٹی (Binghamton University) کی ایک نئی سائنسی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ یادداشت سے متعلق دماغی تبدیلیاں درمیانی عمر (Middle Age) ہی میں شروع ہو جاتی ہیں۔

بنگہیمٹن یونیورسٹی کے محققین نے 18 سے 74 سال کی عمر کے تقریباً 60 افراد پر ایک مفصل تجربہ کیا، جس کے دوران شرکاء کو مختلف چہروں کے ساتھ اشیاء اور مناظر دکھائے گئے اور ان کی یادداشت کے باقاعدہ ٹیسٹ لیے گئے۔ اس عمل کے دوران ایم آر آئی (MRI) اسکینز کے ذریعے دماغ کے اہم حصے ‘ہِپو کیمپس’ (Hippocampus) کی نیورولوجیکل سرگرمیوں کو ریکارڈ کیا گیا۔ محققین کے مطابق ہِپو کیمپس نئی یادداشتیں بنانے، معلومات کو محفوظ کرنے اور پرانی یادوں سے رابطہ استوار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ ہِپو کیمپس کی فعال صلاحیت میں کمی صرف انتہائی بڑھاپے کا مرحلہ نہیں بلکہ درمیانی عمر کے دوران ہی نمایاں ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ تحقیق کے شریک مصنف آئن میک ڈونو (Ian McDonough) کے مطابق درمیانی عمر انسانی یادداشت کے تحفظ اور دماغی صحت کے لحاظ سے ایک انتہائی حساس اور اہم مرحلہ ہے، جسے ماضی میں کی جانے والی اکثر طبی تحقیقات میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ ماہرین نے تجویز دیا ہے کہ درمیانی عمر سے ہی دماغی مشقوں اور صحت مند طرزِ زندگی کو اپنا کر یادداشت کی اس تنزلی کو سست کیا جا سکتا ہے۔