LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مولانا فضل الرحمٰن کی لاہور آمد، سیاسی صورتحال اور صوبوں کے معاملات پر گفتگو ایرانی ردعمل فوری اور تکلیف دہ ہوگا: باقر قالیباف کا امریکا کو تنبیہ ایران کی بحری ناکہ بندی، امریکی فوج نے 92 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 4 افراد جاں بحق، 20 زخمی پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کی مذمت پاکستان خطے میں پائیدار امن و استحکام کا خواہاں ہے، یوسف رضا گیلانی اسحاق ڈار کا ناروے کے ہم منصب ایسپن بارتھ ایدے سے ٹیلی فونک رابطہ پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتوں کا سفر، آپریشن دوارکا سے معرکۂ حق تک پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ مزار قائد پر گارڈ تبدیلی کی پروقار تقریب، پاک فضائیہ نے فرائض سنبھال لیے خلیج میں امریکی فوجی اڈے برقرار رکھنا قابلِ عمل نہیں رہا: جنرل ڈیوڈ پیٹریاس روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں مختصر وقفے پر اتفاق پاسداران انقلاب کا امریکی بحری جہازوں اور 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو

مولانا فضل الرحمٰن کی لاہور آمد، سیاسی صورتحال اور صوبوں کے معاملات پر گفتگو

Web Desk

6 September 2026

لاہور: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے اور تین صوبوں میں حکومت کی عملی رٹ ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

لاہور آمد کے موقع پر سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی کی جانب سے دی گئی دعوتِ طعام میں شرکت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے ملکی سیاسی و اقتصادی صورتحال پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ اس موقع پر سینئر اینکر پرسنز سہیل وڑائچ، سلمان غنی، منصور علی خان اور دیگر صحافی بھی موجود تھے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے صوبائی تحفظات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کا بنیادی مسئلہ این ایف سی کا ہے، جبکہ آئینی طور پر این ایف سی حصص میں اضافہ تو ہو سکتا ہے لیکن کمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاق صوبوں کے معدنی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، حالانکہ جب ملک یا گھر میں آگ لگی ہو تو اس وقت تقسیم کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ تعلقات اور اتحاد کی وضاحت کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ تعاون فی الحال صرف پارلیمانی حد تک محدود ہے اور اسے گراؤنڈ لیول یا عوامی سطح کا سیاسی اتحاد نہیں کہا جا سکتا۔