LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا یمن کے ساحل کے قریب بحری جہاز کے نزدیک متعدد دھماکوں کی اطلاع ایرانی ایئر لائنز کی امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد نجف کیلئے پروازیں بحال ایران نے اپنے سفارتکاروں کو امریکا سے نکالے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان سعودی اتحاد کا یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان مکہ دفاعی معاہدے کے 3 رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا یوکرین نے روسی قبضے والے شہر اولیشکی میں ڈرونز سے خوراک اور ادویات پہنچا دیں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال کشمیری عوام نے مسترد کر دی: طلال چودھری روسی دباؤ سے خوفزدہ ہو کر یوکرین کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: جرمنی شیخ نہیان بن مبارک کی مجلس میں رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت تصادم چاہتی ہے: قمر زمان کائرہ آذربائیجانی خاتون ڈیانا پاکستانی پولیس افسران کے ساتھ باکو روانہ پی ٹی آئی خود کو دہشت گردی کی سہولت کار ثابت کر رہی ہے: گورنر کے پی بلوچستان کے 10 نوجوانوں کو ہر سال دنیا کی ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس دینے کا اعلان

مولانا فضل الرحمٰن کی لاہور آمد، سیاسی صورتحال اور صوبوں کے معاملات پر گفتگو

Web Desk

6 September 2026

لاہور: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے اور تین صوبوں میں حکومت کی عملی رٹ ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

لاہور آمد کے موقع پر سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی کی جانب سے دی گئی دعوتِ طعام میں شرکت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے ملکی سیاسی و اقتصادی صورتحال پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ اس موقع پر سینئر اینکر پرسنز سہیل وڑائچ، سلمان غنی، منصور علی خان اور دیگر صحافی بھی موجود تھے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے صوبائی تحفظات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کا بنیادی مسئلہ این ایف سی کا ہے، جبکہ آئینی طور پر این ایف سی حصص میں اضافہ تو ہو سکتا ہے لیکن کمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاق صوبوں کے معدنی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، حالانکہ جب ملک یا گھر میں آگ لگی ہو تو اس وقت تقسیم کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ تعلقات اور اتحاد کی وضاحت کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ تعاون فی الحال صرف پارلیمانی حد تک محدود ہے اور اسے گراؤنڈ لیول یا عوامی سطح کا سیاسی اتحاد نہیں کہا جا سکتا۔