LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نیوی کی میری ٹائم مشق ’سی سپارک 2026‘ کراچی میں شروع بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بچوں سے بات نہ کروانے کا معاملہ، توہینِ عدالت کی درخواست دائر پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش صدر زرداری سے لندن میں محسن نقوی کی ملاقات، اہم پیغام پہنچایا وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش ایف سی بلوچستان ٹریننگ سینٹر خضدار میں بیسک ملٹری ٹریننگ بیچ 76 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ یوم دفاع و شہداء: پشاور کے تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریبات ایئر ڈیفنس نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکام بنا دیا: اردن پاسداران انقلاب کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں پر مشتبہ گاڑی چڑھ گئی، 4 افراد جاں بحق نیپال میں تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 1050 تک پہنچ گئیں، 4 ہزار افراد تاحال لاپتہ امریکا کی بچوں کے پاسپورٹ کے حصول کیلئے نئی تجویز پیش امریکی، روسی اور چینی صدور کی ایشیا پیسفک سربراہ کانفرنس کے موقع پر ملاقات متوقع امریکی صدر نے ہنگ کاؤ کو امریکا کا نیول سیکرٹری نامزد کردیا

ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش

Web Desk

2 September 2026

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی ذیلی کمیٹی نے ملک میں تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کاروباری اوقات کار میں ابتدائی طور پر 30 منٹ اضافے کی سفارش کی ہے، تاہم پاور ڈویژن نے اس کی سخت مخالفت کر دی ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت منعقدہ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں تاجر برادری نے مؤقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی وصولی میں اضافہ اسی صورت ممکن ہے جب کاروبار کو معمول کے مطابق چلنے دیا جائے۔ اس کے برعکس، پاور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کاروباری اوقات میں اضافے کے لیے ملک کو روزانہ 600 میگاواٹ اضافی بجلی درکار ہوگی۔ حکام کے مطابق اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اگر فرنس آئل پلانٹس چلائے گئے تو فی یونٹ فیول کاسٹ میں 5 روپے تک کا اضافہ ہو جائے گا۔ پاور ڈویژن نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس وقت ملک کے پاس صرف ایک دن کا ایل این جی (LNG) اسٹاک باقی ہے اور اسپاٹ مارکیٹ سے کارگوز منگوانے کی صورت میں بجلی مزید مہنگی ہوگی۔

اجلاس کے دوران پاکستان سے صنعتوں کی نقل مکانی، ایف بی آر کی گورننس، افسران کی دہری شہریت، اور کاروباری برادری کے مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر چیئرمین ایف بی آر ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی اور لاہور میں کیمپ آفس قائم کریں گے تاکہ تاجروں کے مسائل موقع پر حل کیے جا سکیں۔ مزید برآں، ذیلی کمیٹی نے آئی ایم ایف (IMF) کی ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز اور اسپیشل اکنامک زونز کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے کی شرط پر دوبارہ مذاکرات کی سفارش بھی کی تاکہ ملکی صنعتی و سرمایہ کاری مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکے۔