LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کسی نے ہمیں دھرنے سے اٹھانے کی کوشش کی تو وہ اپنا شوق پورا کرلے: حافظ نعیم علی پرویز ملک کی او آئی سی سی آئی اور پی ایس او قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں عوام کو جدید ڈیجیٹل مالیاتی نظام سے منسلک کرنا ترجیح ہے: شزا فاطمہ محسن نقوی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن سسٹم ڈاؤن ہونے پر فوری ہدایت پاکستان چین دوستی کو ڈیٹا، ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل کرنا چاہتے ہیں: مریم نواز سہیل آفریدی کی آیت نور کے گھر آمد، ملزمان کو کڑی سزا دینے کی یقین دہانی نیپال و تبت میں سیلاب سے ہلاکتیں 626 ہو گئیں، 2000 سے زیادہ افراد تاحال لاپتہ ڈی آئی جی ساؤتھ کا ڈیفنس میں خواتین کے جھگڑے کی وائرل ویڈیو پر انکوائری کا فیصلہ امریکی پابندیوں کے تسلسل سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے: ایرانی صدر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کا دورہ، پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ لیا نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کے اعترافی بیانات مسترد، مقدمے میں مزید تاخیر کا خدشہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں: رضوان سعید کراچی: ہسپتال سے نومولود بچے کے غائب ہونے کا معاملہ، ڈاکٹر کا اہم بیان سامنے آگیا امریکا نے ایران میں ان لوگوں کو مضبوط کیا جو سمجھتے ہیں ایران ایٹمی طاقت ہو، روس پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کھلنے سے متعلق امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

نیپال و تبت میں سیلاب سے ہلاکتیں 626 ہو گئیں، 2000 سے زیادہ افراد تاحال لاپتہ

Web Desk

29 August 2026

کاتمنڈو: نیپال اور تبت میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 626 ہو گئی ہے، جبکہ 2 ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نیپال نے ابتدا میں غیر ملکی ٹیموں سے انکار کے بعد اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے خصوصی بین الاقوامی امداد کی اپیل کر دی ہے۔ نیپالی حکام کے مطابق سرنگوں میں پھنسے افراد کو نکالنے، لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے (DNA) ٹیسٹنگ ماہرین اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کولڈ اسٹوریج کی شدید ضرورت ہے۔ تباہ شدہ پلوں اور مواصلاتی نظام کے باعث متاثرہ علاقوں تک رسائی میں سخت مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ سیلابی ریلوں میں بہہ جانے والی لاشیں دور دراز علاقوں سے مل رہی ہیں۔

امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کے لیے 15,000 سے زائد سیکیورٹی اہلکار اور مزید 1,200 فوجی جوان تعینات کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب، لینڈ سلائیڈ کے باعث بننے والی ایک عارضی جھیل سے پانی کے امکان کے پیشِ نظر چینی ماہرین صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بھارت، چین، امریکہ، برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا، سری لنکا اور بنگلہ دیش سمیت متعدد ممالک نے اپنے ریسکیو دستے بھیجنے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد جنوبی کوریا نے اپنی ڈیزاسٹر ریلیف ٹیم روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔