LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا: دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار فائرنگ کے ذریعے سزائے موت کا اعلان اپوزیشن اور حکومت کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی امید ہے: فواد چودھری سعودی اتحادی افواج کا آپریشن فجر الیمن، تعز میں 250 حوثی جنگجو ہلاک پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے مکمل ہوجائیں گے پاکستان سری لنکا ٹی20 اور سہ ملکی کرکٹ سیریز کیلئے ٹریفک پلان جاری ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کے متنازع بیان پر وائٹ ہاؤس کی وضاحت، کیلیفورنیا کی قیادت شدید برہم ربیع 2026-27ء کے لیے 22 فیصد پانی کی کمی کا خدشہ: ارسا نے صوبوں کا کوٹہ مقرر کر دیا مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن کا آل پارٹیز کانفرنس اور مذاکرات پر اتفاق: پی ٹی آئی مارچ کو جمہوری حق قرار دے دیا پٹرول کی قیمت میں 1.19 روپے اضافہ، ہائی اسپیڈ ڈیزل 1.91 روپے فی لیٹر سستا صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات: کے پی لانگ مارچ کی صورتحال اور مذاکراتی کمیٹی کی بریفنگ پر تبادلہ خیال سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون روکنے کی ویڈیوز بنانے پر پابندی عائد امریکی محکمہ انصاف کا ٹرمپ انتظامیہ کے دوران سب سے بڑا اقدام، سنگین جرائم میں ملوث 40 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کی کارروائی شروع پاکستان آئی ایل او سے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے: وزیراعظم روسی افواج کے یوکرینی ریڈارز، ڈیٹا سینٹرز اور فوجی تنصیبات پر حملے آزاد کشمیر اسمبلی کے ارکان نے حلف اٹھا لیا، مسائل باہمی تعاون سے حل کیے جائیں گے: وزیراعظم

بھارت کے یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں: رضوان سعید

Web Desk

29 August 2026

امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے ایک امریکی میگزین میں بھارتی سفیر کے مضمون کا مدلل جواب دیتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ 6 عشروں سے قائم سندھ طاس معاہدے کا احترام اور اس پر مکمل عمل کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ستمبر 1960 میں طے پانے والا یہ معاہدہ کوئی بھارتی فیاضی نہیں بلکہ ایک دہائی کے طویل مذاکرات کا قانونی نتیجہ تھا، جس کی پاسداری دونوں فریقین پر لازم ہے۔ سفیر پاکستان نے بھارت کے اس موقف کو مسترد کیا کہ معاہدہ ناانصافی پر مبنی تھا یا پاکستان ہائیڈرو پاور منصوبوں میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے دوٹوک خبردار کیا کہ دہشت گردی یا دیگر سیاسی الزامات کا سہارا لے کر کوئی ریاست اپنے عالمی معاہدات سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی اور سندھ طاس معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں جو کسی ملک کو اسے یکطرفہ طور پر منسوخ کرنے کا حق دیتی ہو۔ پاکستان نے بھارت کو تمام تر تنازعات طے شدہ میکانزم کے ذریعے مذاکرات کے ساتھ حل کرنے کا مشورہ دیا ہے