LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
27 اگست سے مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، پی ٹی آئی کی توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات دور عمران خان کا علاج: جمائما کی جانب سے برطانوی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے مداخلت کی درخواست غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں راضی نامہ بھی ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا: عدالت امریکا کا H-1B ویزا کیپ پٹیشنز پر ایک لاکھ ڈالر سے زائد فیس عائد کرنے کی تجویز کا اعلان عائشہ وہاب نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست جیت لی، کانگریس کا حصہ بننے والی پہلی افغان امریکی خاتون میر رضا علی خان کیس: سندھ ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ، JIT تشکیل دینے کے حوالے سے قانونی سوالات پر جواب طلب سینیٹ اجلاس: 2025 کے سیلاب سے معیشت کو 853 ارب روپے کا نقصان ہوا، PM آفس کا تحریری جواب ایران سے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی، دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی: محسن نقوی پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کوششیں کر رہا ہے: اسماعیل بقائی ایران 20 سال تک جنگ لڑنے کے لئے تیار ہے: جنرل امیر حاتمی فیلڈ مارشل کی ایرانی قیادت سے تعمیری ملاقاتیں، کشیدگی میں کمی پر غور چین کا اسرائیل، فلسطین امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ سعودیہ اور فرانس کے درمیان سرمایہ کاری سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط امریکا نے شام کو دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں کی فہرست سے نکال دیا

غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں راضی نامہ بھی ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا: عدالت

Web Desk

25 August 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے غیرت کے نام پر 18 سالہ لڑکی نجماں مائی کے قتل کے مقدمے میں فریقین کے درمیان راضی نامے کو مسترد کرتے ہوئے دو ملزمان محمد ناصر اور پرویز کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔

عدالتِ عالیہ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 311 کے تحت غیرت کے نام پر قتل (کاروکاری) ایک ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون یا مذہب کسی بھی شخص کو “غیرت” کے نام پر کسی انسان کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی مدعی و گواہوں کا اپنے بیانات سے منحرف ہونا یا حلف نامے جمع کرانا ملزمان کو ضمانت کا قانونی حق دے سکتا ہے۔

مقدمے کا پس منظر یہ ہے کہ 11 جون 2021 کو راجن پور کے تھانہ کوٹ مٹھن میں پولیس رپورٹ پر 18 سالہ لڑکی نجماں مائی کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ملزمان پر 30 بور پستول سے فائرنگ کر کے نجماں مائی کو قتل کرنے کا الزام ہے، جبکہ انہی کے قبضے سے آلۂ قتل بھی برآمد ہوا تھا۔ ملزمان نے طویل عرصے تک روپوشی اختیار کی اور 27 مارچ 2026 کو گرفتاری کے بعد جوڈیشل لاک اپ بھیجے گئے تھے۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب محمد عبدالودود نے درخواستِ ضمانت کی سخت مخالفت کی، جبکہ عدالت نے اپنے فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 9 (زندگی کا بنیادی حق) اور سپریم کورٹ کے نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے سنگین جرائم میں نرمی نہیں برتی جا سکتی۔ ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ فیصلے کے نکات عارضی نوعیت کے ہیں اور ٹرائل کورٹ قانون اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہوگی۔