LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری سعودی کابینہ کا آبی گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور سیرتِ محمدیؐ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا، مریم نواز وزیراعظم کا پمز ہسپتال آتشزدگی کا نوٹس، واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم ملک بھر میں عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے پنجاب اور شن جیانگ میں زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کیلیے رحمت بن کر تشریف لائے، محسن نقوی حضور نبی اکرم ﷺ کی آمد انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے، گورنر پنجاب سیرت النبیﷺ پوری انسانیت کیلئے رحمت، عدل، امن کی ابدی روشنی ہے: بلاول بھٹو نیواڈا کا دریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کے منصوبے کیخلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کا آبنائے ملاکا کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے عزم کا اعادہ جنوبی سوڈان میں 2 امن فوجیوں کی ہلاکت، اقوام متحدہ کی شدید مذمت

میر رضا علی خان کیس: سندھ ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ، JIT تشکیل دینے کے حوالے سے قانونی سوالات پر جواب طلب

Web Desk

25 August 2026

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے میر رضا علی خان کی مبینہ ہلاکت کی تفتیش کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے سے متعلق درخواست کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ فیروز آباد تھانے میں درج ایف آئی آر 795/2026 کے مطابق متوفی کے والد اور بہن کی جانب سے وکیل جبران ناصر نے موقف اپنایا کہ جائے وقوعہ کو محفوظ نہ کرنے، الیکٹرانک ڈیوائسز کا جائزہ نہ لینے اور خودکشی کے بیانیے کو فروغ دینے سے تفتیش شدید متاثر ہوئی۔ بعد ازاں، قبر کشائی، اسپیشل میڈیکل بورڈ کے معائنے اور کیمیائی تجزیے نے خودکشی کے امکانی بیانیے کو واضح مسترد کر دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے سابقہ تفتیشی ٹیم کے طرزِ عمل اور ثبوت ضائع کرنے کے الزامات پر 31 اگست کے لیے ایڈووکیٹ جنرل، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ڈی اے جی کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جے آئی ٹی کی براہِ راست تشکیل، تفتیشی نگرانی اور سندھ ٹریبیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969ء کی قانونی حیثیت سے متعلق معاونت طلب کر لی ہے۔